خطبات محمود (جلد 13) — Page 526
خطبات محمود ۵۲۶ 61 سال ۱۹۳۲ء حقیقی پکار خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہے فرموده ۵- اگست ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سورہ فاتحہ کی آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعین ملکہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ایک بھولی اور بھلائی ہوئی آیت ہے کہ قرآن مجید کے ماننے والوں اور مانے والوں میں سے یقین کرنے والوں اور پھر یقین کرنے والوں میں سے کوشش کر کے اس پر عمل کرنے والوں میں سے بھی بہت کم لوگ ہیں جو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔دعا کا مسئلہ ایک ایسا نازک مسئلہ ہے کہ اس کے اندر جس قدر حکمتیں مخفی ہیں اور جس قدر باریکیوں کے ساتھ اس مسئلہ پر خدا تعالیٰ کی تقدیر عمل کرتی اور کراتی ہے، وہ اکثر لوگوں کی نظر سے مخفی رہتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لوگوں کے مونہہ پر دعا کا لفظ صرف اس وجہ سے چڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے ماں باپ اس لفظ کو استعمال کرتے تھے۔حتی کہ بعض اوقات ان کے کلی طور پر دہر یہ ہونے اور اس خیال پر قائم ہونے کے باوجود کہ دنیا میں کوئی سچا دین نہیں ہے، ان کے مونہہ سے نکل جایا کرتا ہے کہ دعا کرو لیکن وہ عادت اور رسم کے ماتحت ہوتا ہے اور بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہمارے ما یک دوست جن کی اس بات پر مجھے کو ہمیشہ جنسی آجایا کرتی ہے کہ جب سلسلہ کے کاموں کے متعلق بعض انگریز حکام سے مل کر آتے ہیں تو ان کے مونہہ میں انشاء اللہ داخل کر دیا کرتے ہیں۔مثلاً کہا کرتے ہیں کہ فلاں انگریز افسر کہتا تھا انشاء اللہ ایسا ہو جائے گا۔جب ان سے پوچھا جائے کیا انگریز نے انشاء اللہ کہا تھا تو کہہ دیتے ہیں کہ نہیں اس نے تو نہیں کہا تھا۔عاد تا میرے مونہہ سے نکل جاتا ہے۔