خطبات محمود (جلد 13) — Page 528
خطبات ۵۲۸ سال ۱۹۳۲ء بھی ہم اسباب سے غافل نہیں ہوتے۔اور ان لوگوں پر جو اسباب سے غافل ہوتے ہیں ہم ہنستے ہیں۔ایک دفعہ میں ریل میں سوار تھا۔پیر جماعت علی شاہ صاحب بھی اسی گاڑی میں تھے۔ان کو مجھے سے کوئی غرض تھی اس لئے وہ مجھ سے محبت کی باتیں کرنے لگ گئے۔انہوں نے خشک پھل میرے سامنے رکھا اور خواہش کی کہ میں کھاؤں مگر بوجہ نزلہ کی تکلیف کے میں کھا نہیں سکتا تھا اور ویسے بھی طبیعت مائل نہ تھی کیونکہ ان کے فتوی کی وجہ سے جو انہوں نے احمدی جماعت کے متعلق دیا تھا کہ جو ان سے ملے گا یا بات کرے گا اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی اور ان کی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ مخالفت کی وجہ سے بھی میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ ان کی چیز کھاؤں۔بہر حال میں نے معذوری کا اظہار کیا کہ مجھے نزلہ ہے۔اس پر انہوں نے عام پیروں کی طرح کہا بیماری اور صحت تو خدا کی طرف سے آتی ہے۔بظا ہر یہ تقدیر اور دعا پر بڑے یقین کا اظہار تھا۔میں نے کہا پیر صاحب آپ نے بڑی غلطی کی۔آپ نے اپنا روپیہ بھی ضائع کیا اور میرا بھی۔آپ نے لاہور سے امر تسر آنا تھا اور مجھے قادیان۔ہم لاہور ہی میں بیٹھے رہتے۔اگر خدا کو منظور ہو تا تو وہ آپ کو امر تسر اور مجھے کو قادیان پہنچادیتا۔ہمیں ٹکٹ خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔اس پر انہوں نے کہا اسباب بھی تو ہوتے ہیں۔میں نے کہا اس بناء پر میں نے اپنا عذر پیش کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم نہ صرف اسباب سے کام لیتے ہیں بلکہ جو لوگ ان سے کام نہیں لیتے ان پر بنتے ہیں۔اور اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ دعا بھی ضروری ہے۔غرض یہ ایک ایسی مشکل ہے جسے دیکھتے ہوئے اکثر لوگ پھسل جاتے ہیں اور خدا کی قدرت کا انکار کر دیتے ہیں۔لیکن یاد رکھو ایسے لوگوں کا سطحی ایمان ہوتا ہے۔اس پر غور و فکر کرنے کے بغیر وہ دعا دعا کرتے رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی ان مشکلات پر غور نہیں کیا ہو تا جو دعا کے راستے میں حائل ہیں۔گویا دنیا کے لوگوں کی حالت اس موقع پر وہی ہوتی ہے کہ درمیان قصر دریا تخمیره بندم کرده بازی گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش یعنی پہلے تو مجھے سمندر میں لاکر پھینک دیا پھر کہتے ہو دیکھنا کہیں کپڑے نہ گیلے ہو جا ئیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں ہم ان اسباب پر غور کرتے ہیں جن سے روزانہ فائدہ اٹھاتے ہیں وہاں ایک چیز کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہماری زندگی میں کئی مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ ہمارے پاس