خطبات محمود (جلد 13) — Page 502
خطبات ۵۰۲ سال ۲ بھی آپ نے گورنمنٹ کی تائید کی اور اپنی ہر کتاب میں اس کا ذکر کیا۔اس میں شبہ نہیں حالات کے بدلنے سے بعض تبدیلیاں بھی ہو جاتی ہیں اور میں اس امر کا قائل ہوں۔مگر دنیا میں کبھی اصول نہیں بدلا کرتے۔جب ملک میں فتنہ و فساد برپا ہو جب لوٹ مار اور قتل کے واقعات ہو رہے ہوں اور جب بے گناہوں پر بلاوجہ گولیاں چلائی جاتی اور دہشت انگیزی کے حادثات رونما ہوتے ہوں ، اس وقت ہر مومن کا کام ہے کہ وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کھڑا ہو اور وہ اس وقت تک چین نہ لے جب تک ایسی امن شکن تحریکات کا کلی طور پر سد باب نہ ہو جائے۔گزشتہ سالوں میں جب کانگرس زوروں پر تھی اس وقت میں نے اپنی جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اس تحریک کا مقابلہ کریں اور یہ میں نے اسی لئے کہا تھا کہ میرے نزدیک ملک کا امن نہایت ضروری چیز ہے اور فتنہ و فساد کو مٹانا مومنوں کا فرض ہے۔اسی طرح جب میں نے بعض سیاسی معاملات میں دخل دینا شروع کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ سیاسی تھے بلکہ اس لئے کہ میں انہیں دین کا جزو سمجھتا تھا۔میں نے دیکھا جب میں نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کیا تو جماعت کے کئی دوست بھی اس پر معترض ہوئے اور بعض دوسرے لوگ خیال کرتے تھے کہ مجھے سیاسیات سے واقفیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔مجھے یاد ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دوست کے متعلق سنایا۔وہ اب تو احمدی ہو چکے ہیں لیکن اس وقت غیر احمدی تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ میں نے بھی سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے تو کہنے لگے میں نہیں سمجھ سکتا ریل سے بارہ میل کے فاصلے پر رہنے والا ایک شخص سیاسیات سے واقف ہی کس طرح ہو سکتا ہے (اس وقت قادیان میں ریل نہ آئی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اپنے تو علیحدہ رہے غیر بھی اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ میں سیاست سمجھتا ہوں۔اور یہ اس لئے کہ میں سیاست کو دینی نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہوں۔چونکہ اسلام کے اصول نہایت پکے ہیں اس لئے جب میں اسلام کے اصول کے ماتحت کسی علم کو دیکھتا ہوں تو اس کا سمجھنا میرے لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے۔کوئی علم ہو خواہ وہ فلسفہ ہو یا علم النفس ہو یا سیاست ہو میں اس پر جب بھی غور کروں گا ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچوں گا۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں جس کے اصول کو میں نہ سمجھتا ہوں۔بغیر اس کے کہ میں نے ان علوم کی کتابیں پڑھی ہوں مجھے خدا تعالٰی نے ان کے متعلق علم دیا ہے اور چونکہ میں قرآن کے ما تحت ان علوم کو دیکھتا ہوں اس لئے ہمیشہ صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہوں اور کبھی ایک دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے اپنی رائے کو تبدیل