خطبات محمود (جلد 13) — Page 503
خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۳۲ء نہیں کرنا پڑا۔بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ ان علوم کو جانے والوں سے میری گفتگو ہوئی اور گفتگو کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کا مطالعہ اس علم میں نہایت وسیع معلوم ہوتا ہے۔حالانکہ میں نے اس علم کے متعلق ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی۔غرض میں نے قرآن مجید کے ماتحت ہر علم کو دیکھا اور اس کی وجہ سے اب مجھے قرآن مجید سے باہر کسی چیز کی ضرورت نہیں۔سوائے ان تفاسیر کے جو آنحضرت مالم یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیں۔اور وہ بھی قرآن کا ایک حصہ ہی ہیں اس سے باہر نہیں۔اگر چہ پھر بھی کئی باتیں ایسی ہیں جو ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آئیں جن کا مجھ سے زیادہ عرفان تھا انہیں ان کا علم تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا طب کے تمام اصول قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں اور دنیا کی تمام امراض کا علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔ہو سکتا ہے مجھے اس طرح قرآن مجید پر غور کرنے کا موقع ہی نہ ملا ہو اور ممکن ہے میرا عرفان ابھی تک اس حد تک نہ پہنچا ہو۔مگر بہر حال اپنا عرفان اور اپنے بڑوں کا تجربہ ملا کر میں کہہ سکتا ہوں کہ قرآن مجید سے باہر ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔غرض میں نے سیاسی امور میں جب بھی دخل دیا ہے قرآن مجید کے ماتحت دیا ہے۔اس لئے مجھے کبھی بھی اپنی رائے بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔بسا اوقات ایسا تاریک وقت آیا کہ لوگوں نے کہا اب نہایت نازک گھڑی ہے اور بسا اوقات مجھے دوستوں نے کہا کہ اب آپ کو اپنی رائے بدل لینی چاہئے مگر معاخد اتعالیٰ ایسے سامان پیدا کر تا رہا کہ مجھے اپنی رائے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا کہ مجھے کشمیر کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔جب میں نے یہ خطبہ پڑھا تو اس کے تیسرے ہی دن کشمیر میں خطرناک فساد برپا ہو گیا۔اور یوں معلوم ہو تا تھا گویا ہماری تمام تدبیروں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اور جتنا کام اب تک کیا گیا ہے وہ سب خراب ہو جائے گا۔لیکن میں سمجھتا تھا اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔چنانچہ ایک مہینہ تک سخت تاریک حالات رہنے کے بعد معاً حالات بدل گئے اور یوں حالت ہو گئی کہ گویا فساد ہوا ہی نہیں تھا۔کشمیر میں جس وقت حالات خراب ہوئے میں نے اسی وقت دوستوں سے کہہ دیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے ، میرے لئے بھی اور دوستوں کے لئے بھی۔میرے لئے ان معنوں میں کہ آیا میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں یا نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو رہا ہے اور دوستوں کے لئے اس لحاظ سے کہ ان کی ایمانی کیفیت کا اظہار ہو جائے۔