خطبات محمود (جلد 13) — Page 501
خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۲ء بدلہ میں انگریزوں سے کیا حاصل کیا۔دنیا میں جو شخص کوئی تعلیم دیتا یا کسی کی تائید کرتا ہے تو وہ عموماً کسی فائدے کے لئے ہی کرتا ہے یا کوئی بات اس لئے بری یا شرم والی کہلا سکتی ہے کہ اس میں ہمارا ذاتی فائدہ ہو۔مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بجائے کوئی فائدہ اٹھانے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی تمام زندگی میں گورنمنٹ سے تکلیفیں اٹھاتے رہے۔کبھی مقدمات آپ پر دائر ر ہے ، کبھی مکانات کی تلاشیاں ہو ئیں ، کبھی پولیس والے آموجود ہوتے ، کبھی کوئی شاخسانہ کھڑا کر دیا جاتا اور کبھی کوئی اور اس طرح ساری عمر حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام انگریزی حکومت سے تکلیف اٹھاتے رہے۔مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچا اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ آپ کو تکلیفیں دی جاتی رہیں، آپ ہمیشہ ملک میں فساد کو روکنے اور امن شکن تحریکات کو کچلنے کی تعلیم دیتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب جاکر انگریزوں میں ایک شخص پیدا ہوا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے انگریزوں میں سے محسوس کیا کہ احمد یہ جماعت پر اس کی عظیم الشان خدمات کے باوجود بے انتہاء ظلم کیا گیا۔لیکن اللہ تعالی کی حکمت ہے کہ اسے بھی زیادہ دیر زندہ رہنا نصیب نہ ہوا۔وہ سابق گورنر پنجاب سرڈ ینزل ایبٹسن تھے۔ان سے پہلے ہر احمدی کو باغی سمجھا جاتا رہا اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ لوگ حکومت کا باغی سمجھتے رہے۔گو ظاہر میں ایسا نہیں کہتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ انگریز پہلے یہی خیال کرتے تھے کہ احمدیہ جماعت باغیوں کا گر وہ ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ظاہر میں گورنمنٹ برطانیہ سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں مگر در پر وہ حکومت کے خلاف ہیں۔سرڈ ینزل ایبٹسن جب گور نہ ہوئے تو انہوں نے کہا افسوس ہے کہ وہ جماعت جو سب سے زیادہ گورنمنٹ کی وفادار تھی اس پر سب سے زیادہ ظلم کیا گیا۔اور چونکہ وہ بیماری میں ہی گور نہ ہوئے تھے اس لئے کہنے لگے اگر خدا نے مجھے زندگی دی تو میں اس ظلم کے ازالہ کی کوشش کروں گا۔لیکن وہ اس بیماری سے جان بر نہ ہو سکے اور جلد ہی فوت ہو گئے۔اس لحاظ سے کہ انہوں نے ان مظالم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوئے محسوس کیا ہمارے دل میں ان کی عزت بہت سے گورنروں وائسراؤں بلکہ کئی بادشاہوں سے بھی زیادہ ہے اور ہم ان کا بہت زیادہ ادب اور احترام کرتے ہیں۔پس اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو گورنمنٹ سے ذرہ بھر بھی فائدہ نہ ہوا پھر