خطبات محمود (جلد 13) — Page 493
خطبات محمود 58 ہر احمدی قیام امن کے لئے جدوجہد کرے (فرموده یکم جولائی ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔چونکہ مجھے جمعہ کی نماز کے معابعد اپنی آنکھوں کا معائنہ کرانے کے لئے راولپنڈی جانا ہے اس لئے میں جمعہ اور عصر کی نماز آج جمع کراؤں گا۔امارت کا سلسلہ جس طرح پہلے ڈلہوزی کے سفر میں تھا اسی طرح رہے گا۔یعنی مولوی سرور شاہ صاحب مقامی جماعت کے امیر ہوں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالٰی پھر اگلے جمعہ سے پہلے لاہور سے ہوتے ہوئے جہاں کشمیر کمیٹی کا جلسہ ہے قادیان پہنچ جاؤں گا اور اگلا جمعہ میں انشاء اللہ خود پڑھاؤں گا۔میری صحت تو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں پہاڑ سے جو ٹھنڈی جگہ تھی گرمی میں آکر کوئی طویل خطبہ پڑھوں اور بیماری کے اثرات جو اب تک باقی ہیں اس ارادہ میں حائل ہیں۔رات کے وقت تھوڑی ہی دیر سونے کے بعد میں جس کروٹ بھی لیتا درد سے بے تاب ہو جاتا۔چناچہ رات کا اکثر حصہ میں نے جاگتے اور کروٹیں بدلتے کاٹا۔لیکن میں سمجھتا ہوں جس مضمون کے متعلق آج میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں اس کے لئے زیادہ دیر مضر ہوگی اور بنی نوع انسان کے حقوق کی حفاظت جو میرے ذمہ ہے اس کے لحاظ سے میرا فرض ہے کہ میں اپنے خیالات جلد ظاہر کر دوں۔میں نے متواتر اپنی جماعت کے دوستوں کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ دنیا میں تمام چیزیں مذہبی یا غیر مذہبی نہیں ہوتیں اور تمام چیزیں دینی یا دنیوی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے درمیان بھی مدارج ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ان مدارج پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ بعض دینی باتیں ایسی ہیں کہ وہ ایک رنگ میں دنیاوی ہو جاتی ہیں اور بعض دنیاوی باتیں ایسی ہیں جو