خطبات محمود (جلد 13) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۲ء اپنے اندر دین کا ایک رنگ رکھتی ہیں۔اسلام نے اس مدارج کے نوع کو اس مدارج کے اختلاف کو اس مدارج کے وسیع دائرہ کو اس قدر کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ اگر ہم صرف اسلام کی اس خوبی کو ہی لے کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی غیر مذ ہب والا اس خوبی کے لحاظ سے ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اور در حقیقت کسی چیز سے واقف آدمی جس عمدگی سے اس خوبی سے آگاہ ہوتا ہے دوسرا نہیں ہو سکتا۔ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے کہ کوئی شخص بھوکا تھا۔اسے معلوم ہوا کہ برہمنوں کی کسی جگہ دعوت ہے۔وہ تھا تو مسلمان لیکن اس نے برہمنوں کی ذاتوں کے کچھ نام سنے ہوئے تھے۔بھوک کی شدت کی وجہ سے کفر اس کے ایمان پر غالب آگیا اور اس نے خیال کیا چلو برہمن بن کر ہی اس وقت کھانا کھالیں۔وہ یہ سوچ کر کھانا کھانے چلا گیا۔لوگوں نے جب اس سے پوچھا کہ تم کون ہوتے ہو تو چونکہ اسے معلوم تھا کہ یہاں کن لوگوں کی دعوت ہے کہنے لگا بر ہمن۔انہوں نے پوچھا کون برہمن کہنے لگا گوڑ برہمن۔یہ بھی اس نے کہیں سے سنا ہوا تھا۔انہوں نے پھر پوچھا کہ کون سی گوت میں سے ہو۔کہنے لگا کہیں گوت در گوت بھی ہوتا ہے۔وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ بناوٹی برہمن ہے۔انہوں نے اسے مار پیٹ کر باہر نکال دیا۔تو نا واقف ایک چیز کو بالکل سرسری نظر سے دیکھتا ہے لیکن واقف آدمی اس کی باریکیوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ایک انگریز کے نزدیک ایک آم صرف ایک پھل ہے جو کھانے کے کام آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اس کے نزدیک اس کی حقیقت نہیں۔لیکن اس سے زیادہ واقفیت رکھنے والا جانتا ہے کہ فلاں مقام میں کس قسم کا آم ہوتا ہے اور فلاں مقام میں کیسا۔وہ لمبی اور چھوٹی گٹھلیوں والے آموں کی اقسام بتائے گا۔لیکن اگر ایک باغبان سے پوچھو تو وہ آم کی بیسیوں اقسام گنا تا چلا جائے گا۔اور ایک فن زراعت کا ماہر اس سے بھی باریک باتیں بیان کر سکے گا۔غرض کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز لے لو اس میں بھی باریکیاں نکلتی آئیں گی۔اور اس کی بھی اقسام در اقسام ہوتی چلی جائیں گی۔اور یہ بات علم کی ترقی سے وابستہ ہے۔جوں جوں علم بڑھتا جائے ، اسی نسبت سے کسی چیز کی اقسام بھی معلوم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ایک چاولوں کا تاجر جتنی چاولوں کی اقسام بیان کرے گا گھر وں میں کھانے اور پکانے والے بیان نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح گیسوں کی جس قدر اقسام ہیں اگر انہیں ہی بیان کرنا شروع کر دیا جائے تو کھانے والے سن کر حیران ہو جائیں گے۔غرض چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک کی یہی حالت ہے۔چیونٹی کو دیکھو تو اس کی بہت سی اقسام ہوں گی۔مٹی کا ذرہ لے لو تو اس کے بھی بہت سے اجزاء ہوں گے۔حالانکہ عام لوگوں کے نزدیک وہ ایک ذرہ ہی