خطبات محمود (جلد 13) — Page 409
محمود ۴۰۹ سال ۱۹۳۲ء ہی نہیں کیا ہوتا۔پس یہ تمام لوگ تحقیق کی کمی کی وجہ سے انکار کر رہے ہوتے ہیں۔وگر نہ سچائی کے وہ بھی پیاسے ہوتے ہیں۔اور انہیں بھی اس امر کی تڑپ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وصال حاصل ہو۔پس در حقیقت خدا طلبی کا مادہ انسان کے اندر زیادہ ہے بہ نسبت خدا کو چھوڑنے کے ارادہ کے۔اگر اس طرح لوگوں کی تعداد کا علم حاصل کیا جائے اور اگر اس طرح مردم شماری کی جائے کہ کتنے دل چاہتے ہیں کہ وہ خدا سے مل جائیں اور کتنے دل ہیں جو نہیں چاہتے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو تو ان کی تعداد جو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کے خواہاں ہیں خواہ وہ کتنے ہزاروں پردوں کے نیچے چھپے ہوئے ہوں یقینا ۹۰ فیصدی سے بھی زیادہ ہوگی۔پس نیکی کا بیج دنیا میں بدی سے بہت زیادہ ہے۔یہ اور بات ہے کہ اتفاقی حادثات کی وجہ سے بدی کا درخت بہت اونچا نظر آئے لیکن اگر ہم دیکھیں تو اس بدی کے درخت کے نیچے بھی ڈھیروں ڈھیر نیکی کا بیج جمع ہو گا۔پس دنیا کی ظاہری برائیوں اور عیبوں کی وجہ سے کبھی دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔در حقیقت دنیا نیکی کے لئے قائم کی گئی ہے۔اور نیکی ہی اس میں زیادہ موجود ہے۔یہ تو میں نے عقائد اور ایمان کے متعلق بتایا ہے کہ اگر اس لحاظ سے دنیا کے تمام لوگوں کو دیکھا جائے تو ان میں اسلام کا پہلو غالب دکھائی دے گا۔گو ظاہری طور پر ایسے لوگوں کی تعداد تھوڑی ہو۔مگر باطن پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہو گا کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو چاہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملیں۔اور اس کا وصال انہیں حاصل ہو۔لیکن اگر ہم اعمال کے لحاظ سے دیکھیں تو بھی اس میں ہمیں نیکی کا پہلو غالب نظر آتا ہے۔دنیا میں قریباً ہر شہر اور ہر گاؤں میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں لوگ جھوٹا کہا کرتے ہیں۔چونکہ ایسے لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے جب وہ اس عادت میں ترقی کر جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ بڑے جھوٹے ہیں۔دیہات و قصبات میں ایسا کوئی نہ کوئی آدمی ضرور مل جائے گا جس کے متعلق لوگ کہتے ہوں گے کہ یہ بڑا جھوٹا ہے بلکہ یہاں تک بعض لوگ کہدیں گے کہ اس نے تو کبھی سچ بولا ہی نہیں۔مگر ایسے انسان کی زندگی اگر دیکھو تو اس میں بھی نیکی بہت زیادہ نظر آئے گی۔کسی ایک دن کاغذ اور قلم دوات لے کر اس کے پاس بیٹھ جاؤ اور سارا دن جو وہ باتیں کرے لکھتے جاؤ۔پھر تمہیں نظر آئے گا کہ اگر اس نے تو باتیں کی ہیں تو ان میں سے ۹۸ سچ ہوں گی۔اور دو جھوٹ مگر ۹۸ مرتبہ سچ بولنے کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگ اس کے دو جھوٹوں کو دیکھ کر کہنا شروع کر دیں