خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۲ء گے کہ یہ تو بڑا جھوٹا ہے اس لئے کہ تھوڑا عیب بھی بہت نظر آتا ہے۔اسی طرح لوگ یہاں تک کہہ دیتے ہیں فلاں شخص بڑا چور ہے۔لیکن اگر ہم اس کی تمام زندگی دیکھیں اور اس امر پر غور کریں کہ اس نے اپنی تمام عمر کے کاموں کے مقابلہ میں چوری کتنی دفعہ کی تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس نے بہت کم دفعہ کی ہوگی۔فرض کرو اس نے اپنی زندگی میں سود و سو چار سویا ہزار مرتبہ چوری کی لیکن اس کی ساری عمر کے اتنے ہی تو کام نہیں ہوں گے۔اس نے لاکھوں نیکیاں کی ہوں گی۔مگر لاکھوں نیکیاں لوگوں کو نظر نہ آئیں اور اس کی پانچ سو یا ہزار دفعہ کی چوری نے اسے لوگوں میں چور مشہور کر دیا۔پس سب سے بڑے چور کی نیکیاں بھی اسکی بدیوں سے بہت زیادہ ہوں گی۔اسی طرح اگر ہم ڈاکوؤں کو دیکھیں تو ان میں بھی ہمیں یہی بات نظر آتی ہے۔ڈاکوؤں کی کیسی گھناؤنی شہرت ہوتی ہے۔ذرالوگوں کو پتہ لگ جائے کہ اس علاقہ میں کوئی ڈاکو آیا ہے وہ کس طرح ڈر کے مارے کانپنے لگ جاتے ہیں۔لوٹ مار کے علاوہ ڈاکوؤں کو قتل سے بھی دریغ نہیں ہو تا۔لیکن ان کی زندگی میں بھی نیکی کے پہلو غالب نظر آئیں گے۔پنجاب میں گزشتہ ہی دنوں ایک ڈا کو پکڑا گیا جس کے پکڑے جانے کی بظاہر کوئی صورت نہیں تھی۔لیکن پولیس کو کسی طرح یہ معلوم ہو گیا کہ اس کو اپنی ماں سے بہت محبت ہے۔پولیس نے اس کے کان میں کسی ذریعہ سے یہ بات ڈلوادی کہ تیری ماں بیمار ہے۔وہ اس خبر کو سن کر تاب نہ لا سکا اور تمام خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا۔جو نہی وہ وہاں پہنچا پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تو ماں سے وفاداری اور احسان شناسی ایک ڈاکو میں بھی موجود تھی۔پس حقیقت یہ ہے کہ جس طرح عقائد میں اسلام کا پہلو غالب ہے اسی طرح اعمال میں بھی اسلام کا پہلو غالب ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ہمارے دل میں ایک بہت بڑی امید پیدا کر دیتی ہے۔کیونکہ جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نیکی کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔اس طرح مایوسی نا امیدی ہمارے دلوں سے نکل جاتی ہے۔اور مایوسی اتنی خطرناک چیز ہے کہ رسول کریم ا نے فرمایا ہے۔مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَقَدْ اهلكهما جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں قوم بلاک ہو گئی در حقیقت اسی نے اس کو ہلاک کر دیا کیونکہ وہ تو ہلاک ہوتی یا نہ ہوتی اس نے اس کے دل میں مایوسی پیدا کر کے اسے تباہ کر دیا کیونکہ جب کوئی قوم مایوس ہو جاتی ہے تو ترقی کی طرف اپنا قدم نہیں بڑھا سکتی۔خوشی اور اُمنگ ہی ہے جو قوموں کو عروج تک پہنچاتی ہے۔ہمارے ہی ایک بزرگ کا واقعہ مشہور ہے وہ بارہ دفعہ اپنے علاقہ