خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 296

۲۹۶ 35 سالانہ جلسہ کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا (فرموده ۱۱- دسمبر ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- آج دسمبر کی گیارہ تاریخ آگئی ہے اور اس لحاظ سے صرف دو ہفتے ہمارے اس سالانہ اجتماع میں باقی رہ گئے ہیں جسے اللہ تعالی کی منشاء اور اس کے خاص ارشاد کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے تجویز فرمایا تھا۔دنیا میں ہر ایک چیز کی قیمت محض ظاہری اسباب کے ذریعہ نہیں لگائی جاتی کیونکہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن کی قیمت لگانا انسانی طاقت سے باہر ہوتا ہے اور اگر ہم ان کی صحیح قیمت کا اندازہ لگانا چاہیں تو درحقیقت ہمارے لئے بہت بڑی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہو تاکہ ہم ان کی صحیح قیمت لگا سکیں۔رسول کریم میں فرماتے ہیں۔كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى الْمَسَانِ ثقيلتان في الميزاندا دو فقرے ایسے ہیں کہ خَفِيفَتَانِ عَلَى الْمَسَانِ زبان پر تو نہایت ہلکے پھلکے نظر آتے ہیں۔مگر ثَقِيلَتَانِ فِی المیزانِ قیامت کے روز جس دن انسانی اعمال کا اندازہ لگایا جائے گا ان کی قیمت بہت زیادہ پڑے گی۔اس طرح ایک دفعہ رسول کریم میں مل کر لی بعض ان بشارات کا ذکر فرمارہے تھے جو آپ میل کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئیں اور جو آپ مسی ایل کی اخروی زندگی کے ساتھ متعلق تھیں ان سے متاثر ہو کر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں کہا یا رسول اللہ دعا کیجئے میں بھی آپ کے ساتھ رہوں۔آپ میں ای کویر نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہو گا تم ہمارے ساتھ رہو گے۔اب وہ عظیم الشان انعامات جن کا اندازہ لگانے سے انسانی ذہن قاصر ہے اور بلند ترین مدارج جو رسول کریم میں تعلیم کیلئے اللہ تعالی کے !