خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 297

خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۱ء حضور مقدر کئے گئے تھے ان میں ایک صحابی بھی جس کے اعمال ویسے نہیں تھے شامل ہو گیا حالانکہ اس صحابی کے اعمال کیا تھے محض اس کی یہ خواہش تھی کہ میں رسول کریم کے ساتھ رہوں اور آپ سے ایک لمحہ بھر کے لئے بھی جدا نہ ہو سکوں۔بظاہر یہ خواہش معمولی دکھائی دیتی ہے مگر اس کی قیمت اللہ تعالیٰ کے حضور وہ تھی جس کا اندازہ انسانی ذہن نہیں لگا سکتا۔اس پر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ا میرے لئے بھی دعا کیجئے میں بھی آپ کے ساتھ رہوں۔آپ نے فرمایا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اب نقل کے طور پر جو شخص کھڑا ہو جائے میں اس کے لئے دعا کروں دعا تو ایک شخص لے گیا۔تو بظا ہر وہ اخلاص معمولی سا دکھائی دیتا ہے مگر اس کے بدلہ میں اللہ تعالٰی نے جو انعام دیا وہ نہایت ہی عظیم الشان ہے۔معلوم ہوتا ہے وہ صحابی اس تکلیف اور گھبراہٹ کی برداشت نہ کر سکا جو اسے اس خیال سے ہوئی کہ رسول کریم میں ہم اگر اتنے بلند مقامات حاصل کر گئے تو ہمیں آپ کی صحبت کہاں میسر آئے گی وہ بے چینی اور سخت گھبراہٹ کی حالت میں کھڑا ہوا اس وقت اسے انعامات کی خواہش نہیں تھی اسے بلند مدارج کی فکر نہ تھی اسے کسی خاص مقام کے حصول کی تڑپ نہ تھی اسے محض یہ خیال بے چین کر رہا تھا کہ رسول کریم کو اگر خدا نے اتنے بلند ترین مدارج عطا فرما دیے تو ہم آپ کے پاس کہاں پہنچ سکیں گے آپ کی صحبت ہمیں کب میسر آئے گی اور کب آپ کے فیض سے ہم مستفیض ہو سکیں گے۔وہ اس جدائی کے صدمہ سے کھڑا ہوا اور اس نے بے تابانہ عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا کیجئے اللہ تعالی مجھے بھی آپ کے ساتھ رکھے۔اور چونکہ اس دعا کرانے کا محرک محض اخلاص اور رسول کریم م م ا ا ا ا ل لا کا عشق تھا۔کسی انعام کا لالچ اس کے پیچھے نہ تھا اس لئے خدا کے حضور یہ خواہش مقبول ہوئی اور اس نے کہا کہ اچھا جب تو اس قدر بے قرار ہے تو جہاں محمدمن یم کو رکھا جائے گا اسی مقام پر تجھے بھی رکھا جائے گا۔بات معمولی تھی اور اس کا اندازہ بھی معمولی ہی لگایا جا سکتا ہے مگر چونکہ اس آرزو کے پیچھے ایک درد تھا ایک سوز تھا، ایک کرب تھا ایک رنج تھا اس لئے اس کا اندازہ نہ زبان کے الفاظ سے ہو سکتا تھا نہ لب ولہجہ اس کی قیمت بتا سکتا تھا اور نہ کسی اور طرح ہمیں اس کی قیمت معلوم ہو سکتی تھی مگر انجام نے بتادیا کہ وہ خواہش کتنی عظیم الشان یں اس کی قیمت معلوم پس ہر چیز کی قیمت کا ہم صحیح قیاس نہیں کر سکتے۔بہت دفعہ معمولی دکھائی دینے والی چیزیں اس قدر اہمیت رکھتی ہیں کہ ہمارا انہیں نظر انداز کر دینا سخت غلطی ہوتا ہے ہمارا جلسہ سالانہ بھی ایسے