خطبات محمود (جلد 13) — Page 252
خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۱ء ہے تو پہلے اس کی قیمت میں ساڑھے چار سو کے قریب روپیہ مل جاتا تھا مگرا با سو سوا سو کے قریب ملتا ہے اور گو زمیندار غلہ اتناہی دیتے ہیں جتنا پہلے دیا کرتے تھے مگر اب چونکہ قیمتیں گر گئی ہیں اس لئے پہلے جتنی آمدنی نہیں ہوتی کیونکہ زمیندار جو چندہ دیتے ہیں بصورت غلہ دیتے ہیں بصورت روپیہ نہیں دیتے۔پس قدرتی طور پر آمدنی پر اس کا اثر پڑا اور ضرورت محسوس ہوئی کہ چندہ خاص کی تحریک کی جائے۔احباب نے اس تحریک میں حصہ لیا ہے مگر ابھی ضرورت ہے کہ اور بھی زیادہ جوش اور اخلاص سے کام کیا جائے اور جلد سے جلد مطلوبہ رقم کو پورا کیا جائے۔یہ کام ہم میں سے کسی کا ذاتی نہیں بلکہ خدا کا کام اور اس کے دین کی اشاعت کا فرض ہے اس کے لئے ہمیں جس قدر بھی قربانیاں کرنی پڑیں چاہئے کہ ہم ہر وقت وہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار رہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے اور محض اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے صحابہ نے اپنے پیٹ پر پتھر باند ھے اور کام کیا تو ہمیں بھی تیار رہنا چاہئے کہ اگر کسی وقت ہمیں ایسی ہی قربانی کرنی پڑے تو اس وقت ہم خوشی اور بشاشت کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔کئی دوست ہیں جو مجھ سے کہا کرتے ہیں کہ میں جماعت سے ایسی ہی قربانی کا مطالبہ کروں مگر میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ یہ قربانی اسی وقت جائز ہو سکتی ہے جب ضرورت محسوس ہو اور جب اس کے بغیر کام نہ چل سکتا ہو مثلاً جب معمولی چندوں سے بھی کام نہ چلے اور جب اور کوئی طریق باقی نہ رہے تو اس وقت یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے پس اگر ایسا ہی زمانہ آنے والا ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسی طرح دینی کام نہ کریں جس طرح رسول کریم میں اللہ کے وقت صحابہ کرام کرتے آئے انہوں نے فاقے کئے ، پیٹوں پر پتھر باندھے اور خدا کے دین کو پھیلایا۔مگر اس وقت یہ مطالبہ کسی ایک شخص سے نہیں کیا جائے گا بلکہ ساری جماعت سے کیا جائے گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ بعضوں کو لے لیا جائے اور بعضوں کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اگر غریبوں سے اس قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا تو امیروں سے بھی کیا جائے گا اسی طرح یہ بھی نہیں ہو گا کہ کارکنوں سے مطالبہ کیا جائے اور غیر کارکنوں سے نہیں بلکہ جب مطالبہ کیا جائے گاتو کارکنوں اور غیر کارکنوں دونوں سے کیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا اپنے خوردو نوش کے لئے ہم سے معمولی رقم لے لو اور اپنا سب کچھ خدا کے رستہ میں دے دو۔کارکنوں کو بھی اس وقت ہم یہی کہیں گے کہ روٹی کھاؤ اور سال میں صرف دو جوڑے کپڑوں کے ہم سے لو اور اللہ تعالیٰ کے دین کا اسی جوش اور اخلاص سے کام کرتے رہو جس طرح پہلے کرتے ہو۔مگر یہ زمانہ ابھی نہیں آیا اور ہم نہیں جانتے یہ زمانہ آئے گا بھی یا نہیں مگر ایسے موقعوں کے لئے بھی مومن تیار