خطبات محمود (جلد 13) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۱ء رہے ہیں صحابہ آپ میں اللہ کے ساتھ ہیں مگر فاقہ اور بھوک کی وجہ سے انہوں نے اپنے پیٹوں پر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔مگر یہ نمونہ اب کہاں نظر آتا ہے زمینداروں کو بے شک زیور بیچ بیچ کر مالیہ ادا کرنا پڑا مگر انہیں فاقے نہیں آئے پھر یہاں کی اقتصادی حالت کی خرابی غلہ کی ارزانی کی وجہ سے ہے مگر وہاں چیزوں کے فقدان کی وجہ سے تھی۔یہاں غلہ تو ہے مگر روپیہ نہیں مگر وہاں نہ روپیہ تھانہ غلہ باوجود اس کے صحابہ کرام نے بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ایسی عظیم الشان قربانیاں کیں کہ آج تک یادگار زمانہ ہیں۔پس دین کے کام پر قحط کا اثر نہیں پڑتا اور نہیں پڑنا چاہئے چونکہ دنیا کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے خطرات بہت زیادہ ہیں اور ہماری جماعت پر متراستی ہزار روپیہ کا قرضہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس سال ہم یہ تمام قرض اتار دیں ممکن ہے اگلے سال مالی حالت اور بھی زیادہ کمزور ہو جائے اور ہمارے لئے قرض اتارنا قریبا نا ممکن ہو جائے اسی لئے میں نے جماعت کے احباب سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ایک ماہ کی آمدنی ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ادا کر دیں۔یہ چندہ خاص ایسا ہے کہ اس میں چندہ ماہواری اور چندہ جلسہ سالانہ بھی شامل ہے اس لئے یہ پہلی تحریکوں کے مقابلہ میں معمولی تحریک ہے۔پہلے جب میں نے ایک ایک ماہ کی آمدنی دینے کی تحریک کی اس وقت چندہ ماہواری چندہ جلسہ سالانہ ، چندہ خاص میں شامل نہیں ہو تا تھا۔مگر اب کی مرتبہ چندہ ماہواری بھی اس میں شامل ہے اور چندہ جلسہ سالانہ بھی گویا اصل چندہ خاص صرف ساٹھ فیصدی کے قریب رہ جاتا ہے حالانکہ ہماری جماعت اس سے پہلے سوسو فیصدی چندہ بھی دے چکی ہے۔زمینداروں کی مالی حالت بے شک خراب ہے مگر ملازموں کی حالت ان سے بدرجہا اچھی ہے کیونکہ چیزیں سستی ہو گئیں مگر ان کی تنخواہ وہی ہے جو انہیں پہلے ملا کرتی تھی میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر ہماری جماعت معمولی جد و جہد سے بھی کام لے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ بخوبی جمع ہو سکتا ہے جس میں سے ساٹھ ہزار کی رقم معمولی چندہ کے طور پر کام آسکتی ہے اور بقیہ ستراتی ہزار روپیہ پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لئے رہ جائے گا۔مگر پھر بھی وہ کمی رہ جاتی ہے جس کا بجٹ کے بناتے وقت خیال نہیں رکھا گیا۔شروع سال میں ہمارا بجٹ جن اصول پر بنایا گیا وہ رقم دوران سال میں حاصل نہیں ہوئی کیونکہ ہماری جماعت کا زیادہ تر حصہ زمینداروں پر مشتمل ہے اور زمینداروں سے اس سال یا تو آمد ہوئی ہی نہیں یا ہوئی ہے تو بہت کم اور اس کی وجہ یہی ہے کہ غلہ کی قیمت گر گئی۔اور اس طرح پہلے جو رقم زمینداروں کی طرف سے ملا کرتی تھی اس کا اب بعض دفعہ چوتھائی حصہ ملتا ہے۔مثلا کسی زمیندار نے اگر تنلو من غلہ دیا