خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 253

خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۱ء رہتے ہیں اور کبھی اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قربانی کا موقع دیگر اپنے قرب میں بڑھانے کا سامان پیدا کیا۔اس تحریک کے موقع پر جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے احباب نے اس تحریک کو نہایت خوشی سے سنا اور انہیں یوں محسوس ہوا کہ گویا ایک انعام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے نازل ہوا مگر اس میں بھی شبہ نہیں کئی ایسے ہیں جو کمزوری دکھاتے ہیں اور چندہ نہ دینے کے لئے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور مجھ سے بھی پوچھتے ہیں کہ ایسے موقع پر ہم کیا کریں۔میں اس قسم کے تمام لوگوں کو یہ جواب دینا چاہتا ہوں کہ ہر شخص کا اپنا معاملہ خدا کے ساتھ ہے وہ اپنے حالات کو دیکھ کر اپنے دل سے فتویٰ پوچھ سکتا ہے میرا یہ کام نہیں کہ میں تمام افراد کا انفرادی لحاظ سے اندازہ لگاؤں بلکہ میرا کام یہ ہے کہ میں تمام افراد کا بحیثیت جماعت اندازہ لگاؤں اور ان کے سامنے ان کے حالات کے مطابق ایک تحریک رکھ دوں۔آگے ہر شخص اپنے اپنے حالات کے رد سے خدا کے حضور جواب دہ ہے۔میں جس وقت تمام جماعت کا اندازہ لگا کر اس کے سامنے ایک تحریک رکھ دیتا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتا ہوں۔باقی یہ کہ یہ لوگ کس طرح عمل کریں یہ ہر شخص کی اپنی ذمہ داری کا کام ہے۔میرا فتویٰ جماعت کے متعلق تو ہو سکتا ہے مگر افراد کے متعلق نہیں ہو سکتا۔میں جماعت کو تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ لاؤ ایک ایک مہینے کی تنخواہ دے دو مگر میں افراد کو اس طرح نہیں کہہ سکتا کیونکہ ممکن ہے کسی کی حالت ایسی ہو کہ وہ اتنی قربانی نہ کر سکے اور ممکن ہے وہ بہانے ہی بنا تا ہو۔اور محض اپنے نفس کی آرام طلبی کے لئے مقررہ چندہ دینے سے ڈرتا ہو۔پس ایسا شخص اپنی ذات کے متعلق خدا کے حضور جواب دہ ہو گا تو میں اسے چھوڑ دوں گا مگر خدا کے حضور اسے جواب دینا پڑے گا۔پس ایسے شخصوں کو بجائے مجھ سے فتویٰ پوچھنے کے اپنے دل سے فتویٰ پوچھنا چاہئے اگر کوئی شخص مخلص ہو اور اس کے پاس واقعی روپیہ نہ ہو اور وہ حیران ہو کہ ایسے موقع پر کیا کرے تو میں اس کو یہی جواب دوں گا کہ اگر میری کسی وقت ایسی حالت ہو مجھے خدا کے دین کی امداد کیلئے پکارا جائے اور میرے پاس کوئی روپیہ نہ ہو تو میں اس رقم کو اپنے ذمہ قرض سمجھوں گا اور جب میری حالت ادائیگی کے قابل ہو گی اس وقت میں وہ روپیہ ادا کر دوں گا۔پس اگر کوئی شخص صوفیانہ طور پر مجھے سے فتویٰ پوچھے تو میں اسے یہی کہوں گا کہ میں تمہاری ذات کے متعلق تو کوئی فتوی نہیں دے سکتا لیکن میں اپنے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ اگر کسی وقت میری ایسی ہی حالت ہو اور میں کسی صورت