خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 186

محمود IAM سال ۱۹۳۱ء مقام ہے مگر باوجود اس کے مقام تدبیر کو ہم ترک نہیں کر سکتے۔ہاں اس میں شبہ نہیں کہ مقام تدبیر ادنی ہے کیونکہ اس میں بندہ کی کوشش کا دخل ہوتا ہے اور توکل اللہ تعالے پر ہوتا ہے اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بندے کی چیز اللہ تعالٰی کی چیز کے سامنے بیچ اور ناقص ہوتی ہے۔پس میں اپنے دوستوں کو جہاں مقام تدبیر پر کھڑا ہونے کی تلقین کرتا ہوں وہاں مقام تو کل کے لئے اس سے بھی زیادہ کہتا ہوں کیونکہ وہ مخفی ہے اور مخفی چیز کی طرف توجہ رکھنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔انسان کو اپنی تدبیر اور کوشش تو نظر آتی ہے مگر خدا کا حکم نظر نہیں آتا۔انسان سمجھتا ہے میں نے جلاب لیا میگنیشیا پی لیا اور دست آگیا۔مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ جس وقت میگنیشیا پینے لگا تھا تو خدا تعالیٰ نے من کہا تھا جس کے باعث وہ اسے پی سکا۔پھر ملائکہ نے اس کے اندر تغیرات پیدا کئے۔میگنیشیا بھی ویسا ہی پوڈر ہے جیسا کہ دوسری دوائیاں ہیں مگر خدا تعالیٰ نے محسن سے اس کے اندر خاص تاثیرات ودیعت کیں پھر اسکے دماغ کو رغبت ہوئی اور معدہ کو قبولیت کی طاقت ملی۔ممکن ہے کوئی اس سے انکار کر دے لیکن حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالی کے حسن سے ہی ڈاکٹر نسخہ لکھتا ہے۔كُن سے ہی مریض کو اسے استعمال کرنے کی توفیق ملتی ہے۔محسن سے ہی اس کا حلق اسے اندر لے جاتا ہے۔وگرنہ کئی لوگ کہہ دیتے ہیں ہم کڑوی دوائی پی نہیں سکتے۔پھر گن سے ہی معدہ اسے قبول کرتا ہے۔اور محن سے ہی اس کی ہڈیاں اور اعضاء ر یکسہ اس سے مشارکت اختیار کرتے ہیں اور اس سے جلاب آجاتا ہے۔گو یا اتنے حسن کے بعد اثر ہوتا ہے۔اب جلاب تو انساں کو نظر آجاتا ہے ممر من نظر نہیں آتا۔پس مقام تو کل انسان کو نظر نہیں آتا کیونکہ اس کے اسباب مخفی ہوتے ہیں اس لئے اس طرف زیادہ توجہ دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پنجاب کے ایک راجہ ہیں انہیں قبض کی بیماری ہے ڈاکٹر لوگ جتنا زیادہ علاج کرتے ہیں وہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔انہیں مشورہ دیا گیا کہ جا کر یورپ کے چشموں کا پانی استعمال کریں۔اس سے چند دن تو آرام رہا مگر بعد میں اس سے بھی زیادہ شکایت بڑھ گئی۔پھر اینجا شروع کیا گیا اس سے کچھ دن تو آرام ہوا مگر پھر وہ بھی بے کار ثابت ہوا اور اب یہ حالت ہے کہ پانچ سات دفعہ اینیما کیا جائے تو پاخانہ آتا ہے۔غرض علاج دراصل اللہ تعالیٰ کے محسن کے محتاج ہوتے ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں بعض مواقع پر وہ بالکل کوئی فائدہ نہیں دیتے۔مقام تو کل کا ادنی مقام دعا ہے اس سے تو کل شروع ہوتا ہے۔گو دعا بھی اپنے اندر تدبیر کا ایک پہلو رکھتی ہے یعنی بندہ مانگتا ہے۔دعا سے بھی انسان کو ایک تسکین ہوتی ہے اور خدا تعالٰی کے