خطبات محمود (جلد 13) — Page 185
محمود ۱۸۵ 20 جمعہ کی رات کو ہر احمدی تہجد پڑھے (فرموده ۱۲- جون ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے متواتر دوستوں کو بتایا ہے کہ الہی قرب کا رستہ پل صراط کہلاتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ صرف ایک ہی رستہ ہے اور یہ کہ وہ ایسا باریک رستہ ہے کہ اگر ہم اس سے ذرہ بھی دائیں بائیں ہو جا ئیں تو تمام کوششیں ضائع ہو جاتی ہیں وہ رستہ در حقیقت دعا اور تدبیریا تو کل اور تدبیر کے درمیان کا رستہ ہے۔اگر ہم دونوں پیر تو کل کی طرف رکھ لیں تب بھی کامیابی سے محروم رہ جائیں گے اور اگر دونوں پیر تدبیر کی طرف رکھ لیں تو بھی کامیابی سے محروم رہیں گے بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ دونوں پیر تو کل کی طرف رکھیں تو کیوں محروم رہیں گے۔مگر یہ عجیب نہیں۔تو کل پیدا کرنے والے نے ہی تدبیر کو بھی پیدا کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دونوں سے کام لیا جائے۔آنکھیں بڑی اچھی چیز ہیں لیکن اگر ہاتھ پاؤں سے جو بہ نسبت آنکھوں سے ادنیٰ حیثیت رکھتے ہیں کام نہ لیں تو زندگی بے کار ہو جائے گی اور کوئی نہیں کہے گا کہ ہم نے آنکھوں سے جو زیادہ اچھی چیز ہیں کام لیا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہاتھ پاؤں بے کار ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک کام رکھا ہے اور وہ چیز اپنے مقام کے لحاظ سے ادنیٰ و اعلیٰ نہیں کہلاتی بلکہ ضرورت کے لحاظ سے ادنیٰ و اعلیٰ سمجھی جاتی ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک چیز زیادہ نفع رساں ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس پر تو نکل کر کے دوسری کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر ایک نسخہ لکھتا ہے اس میں ایک چیز ا ہم ہوتی ہے اور باقی اس کی مصلح ہوتی ہیں اصل مقصود نہیں ہو تیں لیکن اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو اصل مقصود دوائی بجائے کسی نفع کے اور بیماریاں پیدا کر دے گی۔پس مقام تو کل گو سب سے اعلیٰ