خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 187

خطبات محمود IAZ حضور آہ و زاری سے بہت حد تک اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔پس میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں احباب کو توجہ دلائی تھی کہ اگر اس اہم عبادت کو جس کے متعلق مومن سے امید کی گئی ہے کہ اسے روزانہ ہی بجالائے اور سوائے بیماری یا کسی اور مجبوری کے پسند یہی کیا گیا ہے کہ باقی اوقات میں بھی اسے بجالائے اگر زیادہ نہیں تو ہفتہ میں کم از کم ایک دن کے لئے اختیار کریں۔آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح باقاعدہ تہجد گزاری کی عادت جماعت کو ہو جائے گی اس لئے اگر روزانہ نہیں تو ہفتہ میں ایک بار ہی سہی۔یہ ایسا آسان طریق ہے کہ جس سے ساری جماعت میں وحدت پیدا ہو سکتی ہے۔تجد اور ذکر الہی اس وقت دنیا میں مفقود ہو رہا ہے۔اول تو مسلمان عام نمازیں بھی نہیں پڑھتے۔مگر تہجد تو بالکل ہی متروک ہے۔کئی لوگ ذکر بھی کرتے ہیں۔مگر تجد نہیں پڑھتے۔تمہیں بیسیوں ایسے لوگ نظر آئیں گے جو رات کے بارہ بجے ہی اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اللہ ہو اللہ جو کرنا شروع کر دیتے ہیں۔مگر اس نماز کی توفیق انہیں نہیں ہوتی جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جسے رسول کریم م ا ا ا ا ر ادا کرتے رہے۔وہ اللہ ھو اللہ ھو میں ہی ساری رات ختم کر دیں ہو گے اور سچ پوچھو تو سوائے چنیں مارنے کے اس کی اور کیا حقیقت ہے۔گویا شیطان اسے مار رہا ہوتا ہے اور ایسا آدمی آگے سے چیچنیں مارتا ہے۔اگر روحانیت ہوتی تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم نہ بجالا تا اور ساری رات اللہ ھو کرتا رہتا۔ہمارے ہمسایہ میں ایک ہندو ہے وہ با قاعدہ اپنی تجد پڑھتا ہے۔یہ تو پتہ نہیں وہ کیا کہتا ہے کیونکہ میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا سوائے ایس ایس کے مگر جو کچھ بھی ہے اپنے رنگ میں اخلاص ہے۔وہ کبھی آہستگی سے بولتا ہے تو سیتا رام سمجھ میں آتا ہے باقی ایس ایس کے سوا کچھ پتہ نہیں لگتا مگر عام طور پر رات کو اٹھ کر وہ یہ عبادت بجالاتا ہے۔خصوصاً سردیوں کے موسم میں اگر دوست تجد پڑھنا شروع کر دیں اور دوسروں میں بھی اس کی تحریک کریں تو بہت ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر عام وعظ یا خطبہ کا اثر نہیں ہو تا لیکن اگر انہیں خاص طور پر تحریک کی جائے تو وہ قبول کر لیتے ہیں۔اگر ہر شہر یا ہر محلہ میں ایسے آدمی مقرر ہو جائیں جو کم از کم جمعہ کی رات کو ہی دوستوں کو تہجد کے لئے جگائیں تو میں سمجھتا ہوں تھوڑے ہی دنوں میں ان کو عادت ہو جائے گی۔اور اس وجہ سے رغبت دعا کی بھی ہوگی۔اور یقینا یہ ایسی بات ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل کو زیادہ کھینچے گی۔قرآن کریم کی آیت واحد وجهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ " کے اور بھی معنی ہیں مگر اس کے ایک معنی ہم بھی 1