خطبات محمود (جلد 13) — Page 160
خطبات محمود 14۔سال ۱۹۳۱ء کر رہا ہے اس لئے یہ در گذر کے قابل ہے۔حالانکہ وہ اس سے پہلے کئی مرتبہ اور کئی جگہوں میں ایسی بات کہہ چکا ہوتا ہے۔پس نقص یہ ہے کہ ایسی خبریں اپنی ذات تک محدود رکھی جاتی ہیں اور ان لوگوں تک نہیں پہنچائی جاتیں جو مناسب انتظام کر سکتے ہوں۔تو منافق کی نگرانی رکھنا اور اس کی خبر افسران متعلقہ کو پہنچانا اہم فرائض میں سے ہے۔اسی طرح باہر کے دشمن ہیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔میں لوکل کمیٹی کے کارکنوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خاص طور پر حالات کا مطالعہ کرتے رہیں اور جہاں اپنے آدمیوں میں سے کمزوروں کے اعمال کا خیال رکھیں وہاں پولیس کے مقامی کارکنوں کے کاموں کا خیال بھی رکھیں اور اگر قابل اعتراض بات دیکھیں تو اسے فورا ضلع کے حکام کے نوٹس میں لائیں اور ضروری ہو تو محکمہ امور خارجہ کی معرفت اوپر کے حکام کے سامنے بھی لائیں لیکن صداقت کو ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑیں اور بلاوجہ کسی سے دشمنی نہ کریں۔اور اگر دیکھیں کہ کسی شخص کے متعلق غلط اطلاع ملی ہے تو غلطی کی اصلاح کر دیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ہر محکمہ میں اچھے بھی آدمی ہوتے ہیں اور برے بھی۔پس جہاں برے آدمیوں کے شر سے بچیں وہاں اچھے آدمیوں کے کام کی قدر بھی کریں۔اور اگر کوئی ایسا شخص جس سے جماعت کو شکوہ ہو اپنی اصلاح کرلے تو چاہئے کہ جماعت بھی اس کے متعلق اپنا رویہ بدل لے اور کینہ سے کام نہ لے کہ کینہ ور آدمی اللہ تعالیٰ کا مقبول نہیں ہو سکتا۔میں اپنے مخالفوں سے بھی کہتا ہوں کہ خواہ وہ ہندو ہوں یا سکھ ہوں یا مسیحی انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ گو ہم کمزور ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالٰی کے فضل سے ایک منتظم جماعت ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ستایا جائے تو ایک چیونٹی بھی ایسا کاٹتی ہے کہ سوتے ہوئے کو بیدار کر دیتی ہے۔اور اس لحاظ سے اگر ہم چیونٹی کی طرح بھی کمزور ہوں تب بھی ہم اپنی جماعت کی حفاظت کے لئے وہ کچھ کر سکتے ہیں کہ جو دوسروں کے لئے تکلیف کا موجب ہو۔پس بلا وجہ ہماری مخالفت کے طریق سے انہیں باز رہنا چاہئے۔اور یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ گو ہم چیونٹیوں کی طرح کمزور ہیں لیکن ہم اللہ تعالی کی حفاظت میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیروں کے قائم مقام بنایا ہے۔جو احمدی اس حقیقت کو نہ سمجھتا ہو وہ چاہے کمزوری دکھائے مگر جو شخص حقیقی طور پر سمجھتا ہے کہ وہ شیروں کے قائم مقام ہے وہ کبھی بزدلی نہیں دکھاتا اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہوتی ہے اور وہ کسی تکلیف یا ذلت یا نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔اگر وہ خدا کے لئے جیل جاتا ہے تو اسے آزادی