خطبات محمود (جلد 13) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ سال اس اس سے جماعت یا اس کے بعض افراد کو نقصان پہنچے تو یہ قابل تعجب بات نہ ہوگی۔پس ایسی حالت میں جب کہ قادیان کی پولیس خود ہماری جماعت کے خلاف ہے جماعت کو زیادہ احتیاط اور بیداری کی ضرورت ہے۔آخر ملنے کی تمہیں ضرورت کیا ہے۔اگر تمہیں اپنی جان کا خطرہ ہے تو مومنوں کو یہ خطرہ تو کبھی دبازی نہیں سکتا۔دیکھ لو کانگریس والوں نے جس دن اپنے دل سے ڈر نکال دیا اسی دن سے حکومت ان سے ڈرنے لگ گئی۔اسی طرح تم بھی جس دن کہو گے کہ اگر ہمیں جیل خانے لے جانا چاہتے ہو تو بے شک لے جاؤ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو سمجھ لو اسی دن دشمنوں کی جراتیں پست ہو جائیں گی اور وہ یقینا تم سے ڈرنے لگیں گے۔جب تک تم اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پڑنے سے ڈرتے ہو جیل خانے جانے سے گھبراتے ہو اور ڈرتے رہتے ہو کہ ہمیں کہیں نقصان نہ پہنچ جائے اس وقت تک کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔اور اگر تم جھوٹے الزاموں میں گرفتار کئے جاتے ہو اور بلا قصور مبتلائے آلام بنائے جاتے ہو تو ان مصائب کو آنے دو اور خوشی سے انہیں برداشت کرو کیونکہ تمہیں جو بھی نقصان پہنچے گا۔اس کا بدلہ تمہیں اللہ تعالٰی دے گا اور اصل عزت تو وہی ہے جو جھوٹا الزام آنے کے بعد اللہ تعالی کے حضور بڑھتی ہے دنیا کی عزتیں کیا ہیں۔کچھ بھی نہیں۔پس ایسی تمام اقسام کے لوگ خواہ وہ کسی رنگ میں منافقت کر رہے ہوں ان کا خیال رکھنا چاہئے اور ذمہ دار افسروں کو اطلاع دینی چاہئے تا وہ تحقیق کے بعد مجھے اطلاع دیں اور ایسے لوگوں کو جماعت سے خارج کر دیا جائے۔آخر دنیا میں جھوٹے بھی ہیں فاسق بھی ، فاجر بھی ہیں اور کافر بھی ہم کوئی ٹھیکیدار نہیں کہ سب کا خیال رکھیں۔جس دن ایک شخص ہم سے علیحدہ ہو جائے پھر وہ جو چاہے کرے ہم اس سے بری الذمہ ہوں گے۔لیکن اگر تم ہو شیاری سے کام نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لو گے اور خدا کہے گا میں نے اس بندے کو دل اور دماغ دیا تھا عقل دی تھی مگر اس نے کچھ نہ سوچا نہ سمجھا۔پس اپنے کانوں کو کھول کر رکھو۔اور ہر شخص کی جو منافقت کرتا ہے نگرانی کرو اور مجھے ایسے لوگوں کی اطلاع دو۔مگر اطلاع دے کر اصلاح کی کوشش کرو۔اب اکثر یوں ہوتا ہے کہ ایک مجرم اور منافق کو ایک قصور پر جب ملامت کی جاتی ہے تو وہ دس آدمیوں کے سامنے کہہ دیتا ہے کہ میں معافی مانگتا ہوں حالانکہ وہ نو د فعہ اسی قصور کا ارتکاب کر چکا ہوتا ہے۔اگر وہ لوگ سلسلہ کے کارکنوں کو ایسی اطلاعات پہنچا دیتے تو جس وقت تیسری یا چوتھی بار ایسے شخص کے متعلق خبر پہنچتی تو ذمہ دار افسر اس کا مناسب انتظام کر سکتے مگر اب جس وقت کوئی منافق اس قسم کی بات کرتا ہے تو سننے والے سمجھتے ہیں یہ پہلی دفعہ ایسی بات