خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 95

خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۲۹ء چوری، ڈاکہ قتل و غارت اور خونریزی وغیرہ جرائم کی خواہ وہ حصول آزادی کے لئے ہی کئے جائیں پورے زور کے ساتھ مذمت کریں۔یہ کافی نہیں کہ جلسوں میں ریزولیوشنز پاس کر دیں لیکن پرائیویٹ مجالس میں ان کی تعریف کریں۔میں سمجھتا ہوں ہندوستان کے لیڈروں کا کثیر حصہ ایسا ہی ہے جو ایسے افعال کی پبلک میں تو مذمت لیکن پرائیوٹ مجالس میں تعریف کرتا ہے اس لئے ملک میں ایک ایسی جماعت پیدا ہوگئی ہے جسے نہ کسی کی عزت کا خیال ہے اور نہ ہی کسی کی آبرو کی پرواہ ہے۔وہ یہی سمجھتی ہے کہ دنیا میں فتنہ پیدا کرنا‘ بدامنی پھیلانا اور فساد و خونریزی کرنا بہت اچھے افعال ہیں۔ایسے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم میں اتنی قابلیت اور اہلبیت تو ہے نہیں کہ گورنمنٹ میں عزت یا رتبہ حاصل کر سکیں اس لئے وہ ایسے افعال کا ارتکاب کر کے پبلک میں عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ بھی نفسانیت سے ہی کام لے رہے ہوتے ہیں۔کوئی عمدہ خیال یا اچھا جذ بہ ان کے مد نظر نہیں ہوتا۔دوسرا لاہور میں راجپال کے قتل کا واقعہ ہے یہ وہی شخص ہے جس نے ایک نہایت ہی دلآ زار اور گندی کتاب شائع کی اور ماتحت عدالتوں سے سزایاب ہونے کے بعد عدالت عالیہ کے ایک جج نے یہ کہہ کر اسے بری کر دیا تھا کہ موجودہ قانون اس کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔اس کے قتل کے شبہ میں ایک مسلمان پکڑا بھی گیا ہے اور اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔گورنمنٹ کا بھی یہی قانون ہے اور عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جب تک کسی کا جرم ثابت نہ ہوا سے قاتل کہنا گناہ ہے۔بہر حال قتل ہوا ہے اور قتل کرنے والا کوئی ضرور ہے اس سے انکار نہیں ہوسکتا پہلے بھی دو دفعہ اس پر حملہ ہوا تھا اور یہ واقعہ اپنی قسم کا پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے کئی بار مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے اور قتل و خونریزی تک نوبت پہنچائی۔پچھلے ہی دنوں لاہور میں نہتے مسلمانوں پر جبکہ وہ نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے ہندوؤں نے حملہ کر دیا جس سے غالباً چار پانچ آدمی مارے گئے اور کئی مجروح ہوئے۔اسی طرح کئی مقامات پر مسلمانوں پر ہندوؤں نے حملے کئے۔ملتان، کنار پور آرہ' بہار بنگال، مالا بار دہلی ضلع گڑگانواں، ضلع انبالہ کے واقعات بتا رہے ہیں کہ ہمارے ملک کے لوگ مذہب کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔رسولوں کے دنیا میں آنے اور بچے مذہب کی غرض اگر کوئی ہو سکتی ہے تو یہی کہ انسان کو جُرم کے ارتکاب سے پہلے روکا جائے۔گورنمنٹ کا قانون مجرم کو ارتکاب جرم کے بعد پکڑ کر سزا دیتا ہے لیکن مذہب کا