خطبات محمود (جلد 12) — Page 94
خطبات محمود ۹۴ سال ۱۹۲۹ء غدار ہو سکتا ہے لیکن اس کی غداری اس کے اپنے نفس کے لئے ہوتی ہے۔جو شخص کسی عہدہ یا دنیاوی مطلب کے حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کی خوشامد کرتا ہے وہ بے شک غدار ہے لیکن جو شخص ملک کے اخلاق کو برباد کرتا اور بگاڑتا ہے وہ اس سے بہت بڑھ کر غدار ہے۔پہلے شخص کی غداری کا اثر اس کی اپنی ذات پر ہوتا ہے لیکن دوسرے کی غداری تمام قوم کے لئے تباہی کا موجب ہوتی ہے۔میں حیران ہوں کہ بعض دفعہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور سمجھدار انسان بجائے اس کے کہ جرائم اور خونریزیوں کی پوری قوت اور سختی سے مذمت کریں ایسے فقرے کہہ جاتے ہیں کہ گورنمنٹ نے ہی ایسی سختی کے لئے لوگوں کو مجبور کیا ہے۔انگریزوں سے عداوت سہی لیکن کون عقل مند ہے جو انگریزوں کی عداوت کی وجہ سے اپنی قوم کے اخلاق کو تباہ کرنا پسند کرے گا۔اگر ملک کے اندر فتنہ و فساد پیدا کرنا بدامنی پھیلانا، خونریزی کرنا جائز ہے اگر ایسے منصوبے کرنا جو دوسروں کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کا موجب ہیں جائز ہیں، اگر خطرناک سازشیں کرنا جائز ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم ہمیشہ کے لئے اپنی قوم کو حکومت کے ناقابل بنا رہے ہیں۔چوری ڈاکٹر قتل و غارت، خونریزی کرنے والے خواہ وہ POLITICAL MOTIVE سے ہی کیوں نہ کی جائے کبھی اس قابل نہیں ہو سکتے کہ حکومت کے مقام پر کھڑے ہوسکیں۔پس یہ دونوں معجلت پسند ہیں حکام حکومت بعض اوقات ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی رعایا کو دینا پسند نہیں کرتے لیکن وہی چیز ایک سال کے بعد خود کہہ دیتے ہیں کہ لے لو حالا نکہ اُس وقت اس کے دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اُس وقت لوگ کہتے ہیں ہم نے ڈرا کر یہ چیز لی ہے۔اگر پہلے ہی دے دی جاتی تو لوگ سمجھتے محبت سے دی ہے لیکن بعد میں وہ سمجھتے ہیں ڈرا کر لی ہے۔میں نہیں سمجھتا میری یہ آواز حکومت تک پہنچ سکے گی یا نہیں اور اگر پہنچ سکی تو حکومت پر اس کا کیا اثر ہو گا مگر پھر بھی میں کہوں گا حکام ایسا طریق اختیار نہ کریں جس سے جذبات کو ٹھیس لگے اور جس سے کمزور دماغ کا آدمی آپے سے باہر ہو جائے۔مضبوط دماغ کا آدمی تو کبھی ایسا نہیں کرتا اور ہماری یہی خواہش ہے کہ ہمارے تمام اہل وطن اپنے جوشوں کو دبا کر رکھیں لیکن ہر انسان ایسا کر نہیں سکتا اس لئے حکام کو چاہئے کہ وہ ایسی باتوں سے احتراز کریں جو کمزور دماغ کے لوگوں میں ہیجان پیدا کر کے فتنہ وفساد کی آگ بھڑ کانے کا موجب ہوں۔اسی طرح میں سمجھتا ہوں قومی رہنماؤں کا بھی فرض ہے کہ جھوٹ، فریب ، دغا بازی ، مکاری