خطبات محمود (جلد 12) — Page 96
خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۲۹ء کام یہ ہے کہ ارتکاب سے پہلے رو کے اور جو مذہب ارتکاب جرم سے روک نہیں سکتا اس کا کوئی فائدہ نہیں۔روحانی اور دنیاوی قانون میں یہی فرق ہے کہ روحانی شریعت جُرم کے پیدا ہونے سے پہلے روکتی ہے لیکن دنیاوی قانون مجرم کے پیدا ہونے کے بعد مجرم کو سزا دے کر اس کے متعدی ہونے کو روکتا ہے۔دونوں کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں۔اگر جسمانی قانون بعد میں سزا نہیں دیتا تو وہ بھی ناقص ہے اور اگر روحانی شریعت جرائم کو قلوب سے نکالنے کی کوشش نہیں کرتی تو وہ بھی بے فائدہ ہے۔مذہب کی غرض انسان کے دل میں خشیت اللہ پیدا کرنا ہے جو مذہب اس غرض کو پورا نہیں کرتا وہ مذہب کہلانے کا ہر گز مستحق نہیں ہے۔جو مذہب کبر، غرور، نخوت، تذلیل تحقیر تو ہین سے نہیں روکتا وہ دراصل مذہب نہیں بلکہ ایک بیماری ہے جسے جس قدر جلد دنیا سے مٹایا جا سکے بہتر ہوگا۔مذہب وہی کہلا سکتا ہے جو کبر و غرور، نخوت تذلیل، تحقیر، تو ہین اور فتنہ و فساد کی تمام راہوں کو بند کرتا ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جو آج کل رونما ہو رہے ہیں کوئی مذہبی یا سیاسی لیڈر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا مذہب اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور اس کے گرنے کا کوئی خدشہ نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے جن قوموں میں دوسروں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں ہوتی ایسی قومیں اپنے ہاتھوں سے اپنی موت کے فیصلہ پر دستخط کرتی ہیں اور جو شخص اپنی قوم کے ایسے افراد کی پیٹھ ٹھونکتا ہے ان کے لئے بہانے اور غذر تلاش کرتا ہے وہ اپنی قوم کا بدترین دشمن ہے۔ناروا افعال پر جتنا بھی اظہارِ مذمت کیا جائے اُتنا ہی قومی خدمت ہے۔جو مائیں محبت سے اپنی اولاد کے جرائم کو چھپاتی ہیں وہ مائیں خیر خواہ نہیں بلکہ اولاد کی دشمن ہوتی ہیں۔ہمارے ملک میں ایک مشہور قصہ ہے کہ کسی عادی مجرم کو جب پھانسی پر لٹکایا جانے لگا تو اس نے ماں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔اس پر اس خیال سے کہ بجائے کسی عمدہ کھانے سے یا کسی اور بات کے اُس نے آخری وقت میں اپنی ماں سے ملنے کی خواہش کی اُن افسروں نے جو وہاں متعین تھے خاص اثر محسوس کیا اور اُس کی ماں کو بلایا گیا۔جب وہ آئی تو اس نے کہا ذرا میرے قریب کر دو میں کان میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔جب قریب کیا گیا تو اُس نے اپنی ماں کا گلا کاٹ لیا۔لوگوں نے کہا کم بخت ! تو اس وقت میں بھی ایسے فعل سے باز نہ آیا جبکہ پھانسی پر لٹکنے لگا۔اس نے کہا۔میں پھانسی پر لٹکتا ہی اس کی وجہ سے ہوں بچپن میں جب میں چوری کیا کرتا تو یہ ماں میری