خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 93

خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۲۹ء جائے ہم بچے نہیں کہ ہماری نگرانی کی جائے۔وہ اپنے ملک میں ملکی علوم، ملکی تہذیب ملکی تمدن کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔پس ان حالات میں اگر انگلستان ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے تو اس کے افسروں کو اپنے رویہ میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔کوئی ملک خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو جب اس میں آزادی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے تو وہ یقیناً آزادی حاصل کر کے رہتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک جس کی آبادی خواہ چند ہزار ہی ہو ہمیشہ کیلئے کسی کا غلام رہا ہو پھر یہ ہندوستان تینتیس کروڑ انسان کہاں ہمیشہ کے لئے غلامی میں رہ سکتے ہیں۔قطع نظر اس سے کہ انگلستان اور ہندوستان کے متحد رہنے سے کس کا فائدہ زیادہ ہو گا وہ مدبرین جو اپنی سیاست دانی پر نازاں ہیں، جو اپنی تدبیر کی بلند پروازی کے بدعی ہیں تاریخ عالم میں سے کوئی ایک مثال ہی ایسی پیش کریں کہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا ملک بھی ہمیشہ کے لئے غلام رہا ہو۔بے شک کمزور قو میں طاقتور کی ماتحتی میں آ جاتی ہیں، غلامی اختیار کر لیتی ہیں اور دب جاتی ہیں لیکن ایک محدود عرصہ کے لئے۔ہمیشہ کے لئے کوئی قوم غلامی میں نہیں رہ سکتی۔پس اگر انگلستان اور ہندوستان کا تعاون قائم رہتا ہے تو لازمی طور پر حکومت کے افسروں کو اپنا رویہ بدلنا پڑے گا اور بھائیوں کی طرح حکومت کرنی ہو گی۔وہ افسر جو اپنا رعب جماتے ہیں، جو PRESTIGE قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں جو يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ کے مصداق ہیں۔وہ ایک دن ایسا دن لے آئیں گے کہ نہ ان کا رُعب باقی رہے گا اور نہ حکومت۔کیونکہ تنگ آ کر قو میں بغاوت کر دیتی ہیں اور اس کی ذمہ داری ایک حد تک ان افسروں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کی روش سے یہ پیدا ہوتی ہے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں ملک کی آزادی کا جوش ہے۔میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں اور آزادی و حریت کا جوش جو میرے اندر ہے میں سمجھتا ہوں اگر احمدیت اسے اپنے رنگ میں نہ ڈھال دیتی تو میں بھی ملک کی آزادی کے لئے کام کرنے والے انہیں لوگوں میں ہوتا لیکن خدا کے دین نے ہمیں بتا دیا کہ عاجلہ کو مد نظر نہیں رکھنا چاہئے۔میں ان لوگوں کی کوششوں کو پسند کرتا ہوں مگر بعض دفعہ وہ ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہیں کہ انگریزوں کو نقصان پہنچانے کے خیال سے وہ اپنی قوم کے اخلاق اور اس روح کو جو حکومت کے لئے ضروری ہوتی ہے تباہ کر دیتی ہیں۔ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔گورنمنٹ کی خوشامد کرنے والا بے شک