خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۲۹ء ابھی پچھلے دنوں دو نہایت ہی خطرناک واقعات ہوئے ہیں۔ایک لاہور میں کہ ایک ہندو کتب فروش قتل ہو گیا ہے اور دوسرا دہلی میں کہ اسمبلی کے اجلاس میں بم پھینکے گئے ہیں۔ان سب فسادات کی تہہ میں وہی عاجل چیز نظر آتی ہے۔ایک حادثہ تو اس کشمکش کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ جو رعایا اور حکومت کے درمیان ہے اور دوسرا اُس نفاق و شقاق کا پتہ دیتا ہے جو مختلف مذاہب میں پایا جاتا ہے لیکن اس سیاسی واقعہ اور اس مذہبی جنون کی تہہ میں چیز وہی ایک ہی کام کر رہی ہے کہ عاجلہ کی محبت انسان کو اس کے ماحول سے بالکل غافل کر دیتی ہے۔یہ سیاسی فسادات جو اس وقت ہو رہے ہیں یہ کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ گورنمنٹ اور رعایا دونوں کی طرف سے پیدا ہوتی ہے۔رعایا کا ایک حصہ اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد کرتا ہے اور حکومت اس کے لئے رعایا کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔دونوں ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن ہر وہ شخص جو انصاف سے کام لے گا اور تعصب سے خالی ہو کر اس پر غور کرے گا اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوگا کہ اس میں دونوں قصور وار ہیں غلطیاں دونوں طرف سے ہو رہی ہیں۔ایک طرف حکام گورنمنٹ ابھی تک اسی پرانے اثر کے ماتحت ہیں جب کہ ہندوستان میں ہندوستانیوں کی آواز کوئی حقیقت نہیں رکھتی تھی۔وہ ابھی اس خیال میں ہیں کہ ہمیں خدائی قدرت حاصل ہے۔جس چیز کو ہم درست سمجھیں نہ صرف یہ کہ اُسے درست سمجھا جائے بلکہ واقعہ میں وہ درست ہی ہے اور جسے ہم غلط سمجھیں نہ صرف یہ کہ اُسے غلط سمجھا جائے بلکہ فی الواقعہ وہ غلط ہی ہے۔حالانکہ وہ بھی اسی طرح جلد بازی سے کام لیتے ہیں جس طرح رعایا کے بعض افراد لیتے ہیں اور وہ بھی ملک کے فوائد سے اسی طرح آنکھ بند کر لیتے ہیں جس طرح رعایا میں سے بعض لوگ کرتے ہیں۔بسا اوقات ان کا لہجہ ایسا ہتک آمیز ہوتا ہے کہ ایک آزاد خیال انسان کے دل میں اس کی قومی عزت کا جوش اُبال مارتا ہے اور وہ فوراً مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔انگلستان چاہتا ہے کہ ہندوستان اس کے قبضہ میں رہے اور میرا اپنا خیال یہی ہے کہ اگر انگلستان اور ہندوستان کا اتحادر ہے تو اس میں ہندوستان کا بھی فائدہ ہے لیکن اگر انگریز یہ سچی خواہش رکھتے ہیں کہ یہ اتحاد قائم رہے تو لازماً انہیں اپنی روش کو بدلنا پڑے گا۔ہندوستانیوں میں اس وقت ایک رو پیدا ہو رہی ہے اور ہندوستانی برابری کے مدعی ہیں اور وہ قوم کے اعزاز اور وقار کو محسوس کرنے لگ گئے ہیں وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم بھیڑ بکریاں نہیں کہ ریوڑ کی طرح جدھر چاہے ہا تک دیا ہے؟