خطبات محمود (جلد 12) — Page 518
خطبات محمود ۵۱۸ سال ۱۹۳۰ء وہ افیون یا شراب میں خرچ کر دیتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوسکتی۔ہمیں اپنے کئے کا ثواب ضرور مل جائے گا ہمارا معاملہ خدا سے پورا ہو گیا ہماری شریعت میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔حج کے موقع پر لاکھوں ہزاروں بکروں کی قربانی کی جاتی ہے اور اس قدر گوشت کھانے والے نہیں مل سکتے۔وہاں یہی کیا جاتا ہے کہ تھوڑا سا رکھ کر باقی گوشت گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہ چیز کا ضائع ہونا بھی ثواب کا موجب ہو جایا کرتا ہے۔پس مؤمن کو چاہئے کہ وہ پوری کوشش سے اپنے فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔جن لوگوں کے ہاتھوں میں کام ہے انہیں چاہئے کہ کفایت اور دیانتداری سے کام کریں اور جن کے ہاتھوں میں نہیں وہ کسی کی غفلت کو دیکھ کر قربانی میں سستی نہ کریں کیونکہ یہ ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ اُس کے آنے والے فضل کے پہلے سے زیادہ مستحق ثابت ہوسکیں۔وہ دلوں کے زنگ دور کر کے اس فضل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطاء فرمائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دینا میں نازل ہوا۔آخر خدا تعالیٰ نے ہمارے دلوں کی تاریکیاں دیکھ کر ہی یہ نور نازل کیا ہے کیونکہ جہاں پہلے ہی روشنی ہو وہاں اور لیمپ یا چراغ نہیں جلایا جا تا۔اس لئے ہم اس سے عفو کے طلبگار ہیں کہ وہ ہماری ظلمت کو دیکھ کر اپنے نور کو واپس نہ لے اور بحیثیت میزبان جلسہ کے موقع پر اپنے فرائض کی ادائیگی کی توفیق دے۔پھر یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ یہاں آنے والے ایسے رنگ میں اپنے اوقات صرف کریں جو اُن کے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی برکت کا ( الفضل ۴۔دسمبر ۱۹۳۰ء ) موجب ہوں۔محمد : ۱۷ ترندی - ابواب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں "الكلمة الحكمة ضالة المومن فحيث وجدها فهو احق بها