خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 517

خطبات محمود ۵۱۷ بھی دل کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت معاویہ" کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بار وہ جاگ نہ سکے اور صبح کی نماز ان کی قضاء ہو گئی اس پر وہ تمام دن روتے رہے۔اگلی رات انہوں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی شخص انہیں جگا رہا ہے کہ اٹھو نماز پڑھو۔انہوں نے اُس سے پوچھا تو کون ہے۔اس نے کہا میں ابلیس ہوں۔آپ نے کہا ابلیس کا نماز کے لئے جگانے سے کیا تعلق۔اُس نے کہا کل مجھ سے غلطی ہو گئی تھی جس کے لئے میں اب تک پچھتا رہا ہوں۔کل تمہاری نماز جاتی رہی اور تم سارا دن روتے رہے۔اس پر خدا تعالیٰ نے کہا اس کے صدمہ کو دور کرنے کے لئے اسے سو نماز کا ثواب دے دیا جائے۔میری غرض تو ثواب سے محروم رکھنا تھی مگر تمہیں سو گنا زیادہ مل گیا اس لئے میں آج جگا رہا ہوں تا ایسا نہ ہو کہ آج بھی سور ہو اور پھر سو گنا ثواب حاصل کر لو۔پس اگر غلطی کے بعد دل میں پشیمانی اور تأسف پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں زیادہ بھی دے دیتا ہے۔وہ جمہ عتیں جو وقت پر چندہ ادا نہیں کر سکیں وہ پانچ فیصدی زائد ادا کریں اور اس طرح اپنی غفلت پر ندامت کا اظہار کریں تا ان کے دلوں پر زنگ نہ لگنے پائے وہ یہ زائد رقم ادا کریں تا معلوم ہو کہ وہ اپنی غفلت پر نادم ہیں۔آخر یہ کام اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں اور اُسی نے ان کو انجام دینا ہے۔ہمارا تو صرف یہ فرض ہے کہ حتی المقدور بہتر سے بہتر سامان جمع کریں لیکن ہمارے ہاتھوں سے ہونے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ یہ کام ہمارا ہی ہے۔یہ سامان تو بندہ اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں وگر نہ کام اصل میں اللہ تعالیٰ کا ہی ہے۔بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں فلاں کام کرنے والے میں یہ نقص ہے ہم اس کے ساتھ مل کر کام نہیں کر سکتے مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کام کرنے والا اصل چیز نہیں وہ تو محض ایک ہتھیار اور آلہ ہے اور ہتھیار کی غلطی کبھی آقا کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ہمارا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے اور کسی کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ سے نہیں بگاڑ سکتے جو معا ملہ خدا تعالیٰ سے ہے اس میں کسی صورت سے بھی کمی نہیں آنی چاہئے اور کسی کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے اپنے تعلقات کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔ایک شخص کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بھوکا مر رہا ہے ہم اگر اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیتے او مر جا تا ہے تو اُس کا گناہ یقینا ہم پر ہے۔لیکن اگر ہم اسے کھانے کے لئے کچھ دے دیتے ہیں اور