خطبات محمود (جلد 12) — Page 519
خطبات محمود ۵۱۹ ۶۴ شفقت علی خلق اللہ کی تلقین فرمده بمبر ۱۹۳۰) سال ۱۹۳۰ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں جلسہ سالانہ کے متعلق دوستوں کو پہلے خطبہ جمعہ میں توجہ دلا چکا ہوں ایک بات رہ گئی تھی وہ آج بیان کرتا ہوں۔قادیان سے باہر کے دوستوں کو چاہئے کہ حسب معمول دوسرے دوستوں کو تحریک کر کے جلسہ سالانہ میں لائیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال جلسہ پر چھ سات سو آدمی داخل سلسلہ ہوتے ہیں ان لوگوں کو یہ موقع اسی طرح حاصل ہوتا ہے کہ جماعت کے احباب انہیں اپنے ساتھ جلسہ میں لاتے ہیں اس لئے جتنی تعداد زیادہ ایسے لوگوں کی جلسہ پر آئے گی اتنی ہی زیادہ تعداد بیعت کرنے والوں کی ہوگی۔اس کے بعد میں احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کے اہم اصول میں سے ایک اصل شفقت على خلق اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں سے محبت اور شفقت کا سلوک کرنا۔محبت کےسلوک میں کوئی شرط نہیں آدمی خواہ بڑا ہو یا چھوٹا انسانی فطرت ایسی ہے کہ خواہ کوئی شخص ہو یا چھوٹا شفقت اور محبت کا پیاسا ہوتا ہے۔بڑائی یا چھوٹائی مال کے ساتھ عام طور پر دنیا میں تعلق رکھتی ہے یا حکومت سے متعلق سمجھتی جاتی ہے مگر دینی طور پر علم اور دین سے متعلق سمجھی جاتی ہے۔جس چیز میں کسی انسان کو زیادتی حاصل ہو اس میں وہ بڑا خیال کیا جاتا ہے اور جس میں کمی ہو اُس میں چھوٹا۔مگر کسی انسان کو خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں بنایا کہ وہ صرف مال سے زندہ رہ سکے۔نہ کسی انسان کو ایسا بنایا ہے جوصرف