خطبات محمود (جلد 12) — Page 506
خطبات محمود ۵۰۶ سال ۱۹۳۰ء تحقیقات کو اتنا لمبا کر دیا جاتا ہے کہ یا تو اس سے تنگ آ کر وہ خود ہی مسلمان ہونے کا خیال چھوڑ دیتا ہے یا اس اثناء میں ہندوؤں کی طرف سے اس پر دباؤ ڈال کر اس خیال سے روک لیا جاتا ہے۔پھر بعض جگہ جھوٹے مقدمات دائر کر کے ایسے لوگوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔پس اگر کوئی ایسی۔حکومت قائم ہوگئی تو باقی فرقے تو شاید اسے قبول کر لیں کیونکہ انہیں پہلے سے ہی تبلیغ کی عادت نہیں مگر احمد یوں کے لئے تو تبلیغ کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اگر تبلیغ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے اور یا پھر اگر خدا تعالیٰ اجازت دے تو ایسی حکومت سے لڑیں گے۔اور میں تو یہ بھی نہیں خیال کر سکتا کہ باقی مسلمان بھی خواہ کس قدر گر گئے ہوں یہ برداشت کر سکیں گے کہ رسول کریم ﷺ کے اُسوہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے پر پابندیاں عائد کی جائیں۔لیکن خواہ وہ اسے برداشت کریں یا نہ کریں ہم تو کسی صورت میں بھی ایسا نہیں کر سکتے۔پس ہمارے لئے یہ سیاسی نہیں بلکہ اہم مذہبی سوال ہے۔اگر یہ خالص سیاسی سوال ہوتا تو میں کبھی اس طرف اتنی توجہ نہ کرتا۔میں اس بات کی چنداں پرواہ نہیں کرتا کہ اس ملک کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہو بلکہ صرف یہ خیال ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہو جو تبلیغ اسلام میں روک پیدا کر دیں اور اگر کسی اسلامی فرقہ سے اس قسم کا خدشہ ہوا تو اسکی بھی ہم ایسی ہی مخالفت کریں گے۔ہمیں صرف یہ ضرورت ہے کہ ملک میں تبلیغ کا راستہ کھلا رہے مگر آثار و قرائن سے یہی پایا جاتا ہے کہ ہندو اس کوشش میں ہیں کہ تبلیغ اسلام کو بند کر دیں۔مہاشہ فضل حسین نے ہندوراج کے منصوبے نام سے جو کتاب لکھی ہے اس میں خود ہندو لیڈروں کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ تبلیغ کو گوارا نہیں کر سکیں گے ان میں سے بعض نے تو صاف کہا ہے کہ ہم کسی ہندو کا مسلمان ہونا برداشت نہیں کر سکتے۔بعض نے کہا ہے اگر مسلمان تبلیغ بند نہ کریں گے تو انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا پس اگر ایسے لوگوں کو حکومت مل گئی تو ہمارے لئے تبلیغ کا راستہ کہاں گھلا رہ سکتا ہے۔پس یہ ایک اہم مذہبی سوال ہے کیونکہ مذہب کی جان تبلیغ ہے اس لئے دوستوں کو خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالی اسلام کے لئے بہتری کے سامان کرے کیونکہ وہ سب کے دلوں کا مالک ہے۔ممکن ہے مسلمان ہی کوئی ایسا سمجھوتہ کر آئیں جو اسلام کے لئے مضر ہو۔بعض ہندو ریاستوں میں کسی مسلمان کو وزیر بنا لیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کے حقوق غصب کئے جاتے ہیں اسی طرح عین ممکن ہے کہ ہند و بعض مسلمان نمائندوں کو یہ لالچ دیکر کہ