خطبات محمود (جلد 12) — Page 505
خطبات محمود ۵۰۵ سال ۱۹۳۰ء دوسرے میرے نزدیک ایک اور امر کے لئے بھی ہماری جماعت کو بہت کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں اور وہ ہندوستان کی آئندہ قسمت کے فیصلے کا سوال ہے جو بظاہر گو سیا سی ہے مگر جیسا کہ میں بارہا پہلے بتا چکا ہوں اور آج بھی مختصر ابتاؤں گا اصل میں یہ سوال مذہبی ہے۔یہ ہندوستان کی آزادی کا سوال ہے جو لندن میں منعقد ہونے والی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں طے ہونے والا ہے۔ایک تو ملکی آزادی کے لحاظ سے بھی یہ سوال ہمارے لئے دلچپسی کا موجب ہے دوسرے اس وجہ سے صرف ہمارے ہی لئے یہ زیادہ اہم ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو جائے جس سے ہندوستان میں اسلام کی ترقی رک جائے۔اس وقت بھی ہم دیکھتے ہیں جہاں ہندوؤں کی حکومت ہے باوجود یکہ وہ انگریزوں کے ماتحت ہی ہے پھر بھی وہاں مسلمانوں پر سخت مظالم ہوتے ہیں۔سب ہندو ریاستوں میں تو نہیں مگر اکثر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ملکانوں کے ارتداد کے دنوں میں ہمارے دوستوں نے اس کا تجربہ کیا ہو گا۔بھرت پور میں جبراً ایک مسجد میں غلہ اور بھوسہ ڈال دیا گیا اور دو چار لالچی اور نافہم مسلمانوں سے ایسی درخواست دلوا دی کہ یہ مسجد ویران ہے اسے سر کارسنبھال لے اور سر کا ر نے اس میں غلہ اور بھوسہ لا کر بھر دیا۔پھر بعض علاقوں میں ہند و پولیس افسروں نے پاس کھڑے ہو کر مدھی کرائی اور جب ہمارے مبلغین گئے تو انہیں وہاں سے نکال دیا گیا۔ریاست الور کے ایک گاؤں میں لوگوں کو آریہ بنالیا گیا۔میں نے قاضی عبد اللہ صاحب کو جو ان دنوں ہائی سکول میں کام کرتے ہیں وہاں بھیجا تو انہوں نے مجھے لکھا کہ سیشن جج نے مجھے بلا کر حکم دیا ہے کہ باہر کا کوئی آدمی یہاں آ کر تبلیغ نہیں کر سکتا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ جن مسلمانوں کو آریہ بنا لیا گیا تھا انہیں کوئی ارتداد سے تائب نہ کرا لے۔ان حالات میں خطرہ ہے کہ اگر کوئی ایسی حکومت قائم ہو گئی اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکا تو تبلیغ اسلام رُک جائے گی اب بھی کئی ہندو ریاستوں میں ایسے قوانین ہیں۔چمبہ میں اگر کوئی مسلمان ہونا چاہئے تو ضروری ہے کہ پہلے مجسٹریٹ سے اجازت لے۔ہند و مجسٹریٹ اسے طرح طرح کے سوالوں سے پریشان کر دیتا ہے۔مثلاً یہ کہ تمہیں کس نے تبلیغ کی؟ اسلام میں کیا خوبی نظر آئی؟ کسی کے ڈر سے یا دھوکا میں آ کر تو مسلمان نہیں ہوتے ؟ اور پھر