خطبات محمود (جلد 12) — Page 484
خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۰ء کیا ایک شہر میں مختلف مقامات پر جمعہ ہو سکتا ہے فرموده ۱۲۔ستمبر ۱۹۳۰ء بمقام شمله ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں اس امر کے متعلق اختصار کے ساتھ کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آیا جمعہ ایک شہر میں مختلف جگہوں پر ہو سکتا ہے یا نہیں۔جمعہ کی اصل غرض تو یہ ہے کہ کسی شہر یا دیہات کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر ایسے امور کے متعلق جو جماعت کے اتحاد کے ساتھ یا بحیثیت مجموعی جماعت کے نقائص دور کرنے سے تعلق رکھتے ہوں آگاہی حاصل کریں تا فردی کاموں کے ساتھ ملتی فرائض سے بھی مطلع ہوسکیں اس لئے بغیر کسی طبعی یا دینی روک کے ایک شہر میں دو جگہ نماز جمعہ جائز نہیں۔اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ جہاں چند آدمی جمع ہوں وہ ہل کر نماز جمعہ پڑھ لیں تو جمعہ کی اصل غرض مفقود ہو جاتی ہے۔پھر ہر شخص اپنے اپنے دائرہ میں اجتماع کر لیا کرے گا اور ملی اجتماع کی صورت مفقود ہو جائے گی۔ہاں اگر کوئی مذہبی روک ہو مثلا مذ ہباً ایک فریق دوسرے فریق کے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو ایک شہر تو کجا ایک مسجد میں بھی دو جمعے ہو سکتے ہیں اور مسجد کے متولی کی اجازت کے ماتحت یکے بعد دیگرے دونوں فریق ایک ہی جگہ نماز جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔بعض طبعی روکیں بھی ہو سکتی ہیں مثلاً بارش ہو رہی ہو یا بارش وغیرہ کی وجہ سے کیچڑ ہوا اور پہنچنا مشکل ہو تو صَلَّوا فِي رِحَالِكم (اپنے گھروں میں نمازیں پڑھ لو ) کی بھی شریعت نے اجازت دی ہے۔لیکن جب کوئی روک نہ ہو تو اُس وقت مختلف جگہ جمعہ کی نماز ہونے کے معنے یہ ہیں کہ جو خاص اغراض و مقاصد اجتماع سے تعلق رکھتے ہیں ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے اور یہ