خطبات محمود (جلد 12) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۰ء ظاہر ہے کہ جو شخص بغیر کسی جائز روک کے ایسا کرے وہ قابل سرزنش ہوگا۔جوشخص ایک بڑے مقصد کو چھوڑ کر چھوٹے کی طرف آتا ہے وہ بھی قابل سرزنش ہے اور جو شخص چھوٹے مقصد کو ( جب اس کے مقابل پر بڑا مقصد نہ ہو ) چھوڑتا ہے وہ بھی قابل سرزنش ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص دین کی مالی اور جسمانی خدمت بھی کر سکتا ہے تو وہ اگر ان دونوں میں سے ایک قسم کی خدمت کرے گا اور دوسری قسم کی خدمت نہیں کرے گا تو وہ قابل مؤاخذہ ہو گا۔اور اگر ایک شخص صرف مالی یا صرف جانی خدمت کر سکتا ہے مگرا سے ترک کرتا ہے تو اس سے اس کے ترک کرنے کی بابت مؤاخذہ ہو گا۔اور اگر ایک شخص کسی رنگ میں بھی مالی خدمت نہیں کر سکتا اور اس مجبوری کی وجہ سے وہ ہر قسم کی خدمت سے محروم ہے تو جو شخص اس کا نمونہ پیش کرتا ہے اس کا غذ ر غلط ہے کیونکہ وہ معذور ہے اور یہ معذور نہیں۔اگر کسی دفتر میں باہر جا کر نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی تو وہاں کام کرنے والے اس مجبوری کی وجہ سے وہاں ہی جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔بعض حالات میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک ہی وقت میں مسجد مبارک میں بھی جمعہ کی نماز پڑھی جاتی تھی اور مسجد اقصیٰ میں بھی۔اور یہ اس صورت میں ہوتا تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی تکلیف وغیرہ کی وجہ سے مسجد اقصیٰ میں تشریف نہیں لے جا سکتے تھے۔جو شخص نماز با جماعت مسجد میں نہیں پڑتا اور گھر میں ہی بغیر کسی عذر کے نماز پڑھ لیتا اور جماعت کرالیتا ہے وہ نہ صرف خود مسجد میں نہ جانے اور جماعت میں شامل نہ ہونے کی بناء پر سرزنش کے قابل ہے بلکہ وہ دوسروں کو بھی نماز با جماعت سے روکنے کا مرتکب ہوتا ہے۔اسی طرح نمازوں کے جمع کرنے کا مسئلہ ہے جو شخص بلا ضرورت نمازیں جمع کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل گرفت ہے۔لیکن اگر صحیح ضرورت کے موقع پر نمازیں جمع کر لی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اور اگر امام کو یا مقتدیوں کے پیشتر حصہ کو کوئی ایسی وجہ پیش آ جائے جس میں نمازیں جمع کرنا جائز ہو تو اس میں تمام مقتدیوں کے لئے نمازیں جمع کرنا جائز ہوگا اور وہ اس معاملہ میں امام یا مقتدیوں کی کثرت کے تابع سمجھے جائیں گے۔جیسے اگر امام بیمار ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھائے تو اس صورت میں مقتدیوں کو بھی ادائیگی میں یہی ہدایت تھی کہ وہ بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں ہے لیکن بعد میں نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرما دیا۔غرض حالات کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں اور ایک ہی چیز ایک حالت میں اچھی اور دوسری حالت میں بُری ہو جاتی ہے۔جب انسان ایک بڑی نیکی نہ کر الله