خطبات محمود (جلد 12) — Page 483
خطبات محمود سمسم سال ۱۹۳۰ء مرد اپنے ساتھ اپنا کنبہ بھی لاتا ہے اس لئے یہ شرط رکھی گئی ہے۔) پس جس ضلع کی جماعتیں ایک ہزار مرد احمدیت میں داخل کر دیں گی ہم سمجھیں گے کہ وہ حقدار ہیں کہ انہیں مستقل مبلغ دے دیا جائے جو اس ضلع میں کام کرے۔پس جو جماعتیں چاہتی ہیں کہ احمدیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے احمدیت کی تبلیغ کے لئے نظام جماعت کو درست اور مضبوط کرنے کیلئے انہیں مستقل مبلغ مل جائیں وہ کوشش کریں کہ ایک ہزار مرد جماعت میں داخل کر دیں۔یہ سودا ہمارے لئے بھی مہنگا نہ ہو گا اس سے آگے اور ترقی ہوگی اور چندہ میں بھی زیادتی ہو جائے گی جس سے تبلیغ کے اخراجات پورے ہو سکیں گے۔میں اس اعلان کو اور وسیع کر کے کہتا ہوں اگر کوئی تحصیل بھی ایک ہزار مرد سلسلہ میں داخل کر دے تو اسے بھی مستقل مبلغ دے دیا جائے گا۔غرض تبلیغ کو بہت وسیع کرنا چاہئے اس کے لئے بہت بڑا میدان پڑا ہے۔ابھی تک ہم نے ہندوؤں میں تبلیغ کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور حضرت مسیح موعود کے کرشن کے الہام کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کا نام جَرِ اللَّهِ فِي مُحُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ ا رکھا ہے۔یعنی آپ سارے انبیاء کے بروز اور رسول اللہ کے کامل بروز تھے۔اور رسول اللہ لیا ہے جب ساری دنیا کے لئے آئے تھے تو علیہ آپ بھی ساری دنیا کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ عیسائیوں، یہودیوں بدھوں ہندوؤں، سکھوں سب کو مسلمان بنا ئیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس وضاحت اور تشریح کے بعد آئندہ کوئی صاحب دھوکا نہ کھائیں گے اور مجھ تک اس قسم کی بات نہ پہنچے گی کہ کوئی مبلغ گیا تو اُسے کہہ دیا گیا سلسلہ کے متعلق لیکچر نہ دیا جائے کیونکہ لوگ ناراض ہو جائیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ ایسی آواز پھر میرے کان میں نہ پہنچے گی اور جماعت کے لوگ دنیوی اتحاد کی خاطر خدا کے اتحاد کو ترک نہ کریں گے۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جو فرض اُس نے ہمارے ذمہ لگایا ہے اس سے ہم ایک منٹ بھی غافل نہ ہوں بلکہ ہم اس کے متعلق ہر آنے والے دن میں پہلے سے بھی زیادہ عمدگی اور چستی سے کام کریں۔الفضل ۲۱ اگست ۱۹۳۰ء ) ے تذکرہ صفحہ ۷۹۔ایڈیشن چہارم۔