خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۰ء دنیا کی ہر چیز خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے انسان کا دل و دماغ اس کے ظاہری اور باطنی حالات پر وہی قبضہ رکھتا ہے اور حالات کا صحیح علم بھی اسی کو ہو سکتا ہے۔بسا اوقات ہم ظاہری حالات کو دیکھ کر غلطی کر جاتے ہیں اور ان سے غلط نتیجہ نکال لیتے ہیں۔پس ہم اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کا بیان سنے بغیر کوئی رائے قائم نہیں کریں گے لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ اگر فی الواقعہ ہمارا ایک بھائی ایک غلطی کا مرتکب ہوا ہے تو وہ اور بھی زیادہ ہمارے رحم اور ہماری ہمدردی کا مستحق ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک مثال بیان کی ہے فرماتے ہیں۔کسی شخص کے دو بیٹے تھے اس نے اپنا مال ان میں بانٹ دیا۔چھوٹا بیٹا اپنا سارا مال لے کر دور دراز چلا گیا اور وہاں اس نے سارا مال بد چلنی میں ضائع کر دیا۔آخر وہ ایک شخص کے ہاں چرواہے کے طور پر ملازم ہو گیا۔اس حالت میں اُس نے خیال کیا میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے مگر میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔کیوں میں اس کے پاس جا کر یہ نہ کہوں کہ مجھے بھی اپنے مزدوروں کی طرح رکھ لے۔اس پر وہ اپنے باپ کے پاس گیا باپ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے گلے لگا لیا اور نوکروں سے کہا خوب موٹا تازہ بچھڑ الا کر ذبح کرو تا کہ ہم کھائیں اور خوشی منائیں۔جب اس کا دوسرا بیٹا آیا تو اسے یہ بات بہت بُری لگی اور اس نے اپنے باپ سے کہا میں اتنے برس سے تیری خدمت کر رہا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی منا تا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جس نے تیرا مال عیش و عشرت میں ضائع کر دیا تو اس کے لئے تو نے پکا ہوا بچھڑ ا ذبح کرایا۔باپ نے کہا تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن تیرے اس بھائی کے آنے پر اس لئے خوشی منائی گئی کہ یہ مردہ تھا اب زندہ ہوا کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔لہ پس جو شخص کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے جب وہ غلطی کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور جاتا اس کے آگے جھکتا اور اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کرتا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول کرتا اور پہلے سے زیادہ اس پر رحم کرتا ہے۔اسی اصل کے ماتحت خدا تعالیٰ کے بندے بھی اپنے بھائیوں سے سلوک کرتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے کسی بھائی سے غلطی ہوئی، کوئی قصور سرزد ہوا تو اس غلطی کا دلیری سے اعتراف کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ بھائی کی غلطی کی وجہ سے اس پر پردہ ڈالتے اور اسے چُھپا نا شروع کر دیتے ہیں۔وہ سچائی کے دلدادہ اور صداقت