خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 376

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء پر کار بند ہوتے ہیں اور کھلے طور پر قصور کا اعتراف کرتے ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی خدا تعالی کے حضور جھک جاتے اور عرض کرتے ہیں کہ بہت ہیں جو قصور کر کے جب تیرے حضور آ گرتے ہیں تو تو انہیں معاف کر دیتا ہے۔ہمارے بھائی نے بھی ایک غلطی کی ہے ہم اس کے لئے عرض کرتے ہیں کہ اس کی غلطی معاف کی جائے۔یہ وہ طریق ہے جو ایک مؤمن اختیار کرتا ہے اور یہی وہ طریق ہے جس سے دنیا میں امن قائم رہ سکتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بھائی کے قصور کا اعتراف کریں مگر ساتھ ہی اس کے متعلق خدا تعالیٰ سے رحم اور فضل طلب کریں۔اگر موقع آنے پر ہم دونوں باتیں نہیں کرتے یعنی یا تو اپنے بھائی کے قصور کا اعتراف نہیں کرتے اور یا خدا تعالیٰ کے حضور اس کی غلطی کی معافی چاہنے کے لئے نہیں جھکتے تو پھر ہم خدا کی درگاہ میں قبول نہیں کئے جا سکتے۔اگر ہم اپنے کسی بھائی کی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے تو قصور کرتے ہیں اور اگر بھائی کے قصور کی خدا تعالیٰ سے معافی نہیں مانگتے اور اس کا فضل اور رحم طلب نہیں کرتے تو بھی قصور کرتے ہیں اور یقیناً اس صورت میں خدا تعالٰی ہم سے بھی منہ پھیر لے گا کہ تم نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ ہمدردی نہ کی اب میں بھی تم پر کوئی رحم نہیں کرتا۔پس مؤمن کا راستہ پُل صراط کا راستہ ہے اسے تلوار کی دھار پر چلنا ہوتا ہے اس سے ذرا ادھر ہوا تو بھی گیا اور اگر ذرا اُدھر ہوا تو بھی گیا۔میں دوستوں کو اختصار کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس موقع پر وہی طریق اختیار کریں جو ایک مؤمن کی شان کے شایان ہے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ہمارے بھائی سے قصور ہو ا تو اس کے اعتراف میں اس وجہ سے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے کہ قصور کا مرتکب ہمارا بھائی ہؤا ہے اور پھر اس لئے کہ غلطی ہمارے بھائی سے ہوئی کبر اور نخوت سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ اپنے اس بھائی سے حقیقی ہمدردی کا یہی وقت ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں اور استغفار کرنا چاہئے اس بھائی کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔اور خدا تعالیٰ کا فضل ڈھونڈ نا چاہئے شاید وہ کوئی ایسا رستہ نکال دے کہ ہماری روحانی زندگی بھی قائم رہے اور جسمانی رشتہ بھی قائم رہے۔انسان پر کئی وقت ایسے آتے ہیں جب وہ حیران ہوتا ہے کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں۔ایسے ہی وقت کے لئے خدا تعالیٰ نے مومن کو یہ دعا سکھائی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ