خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 369

۳۶۹ ۴۷ خطبات محمود ہمارے لئے امن کی ایک ہی صورت ہے کہ دنیا پر غالب آجائیں (فرموده ۱۸۔اپریل ۱۹۳۰ء ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ آج نماز کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوگا اس لئے میں ایک تو خطبہ جمعہ نہایت اختصار سے پڑھنا چاہتا ہوں اور دوسرے عصر کی نماز جمعہ کے ساتھ جمع کر کے پڑھاؤں گا تا وہ کام جو ایک ملی اور اجتماعی کام ہے اور خدا تعالیٰ کے سلسلہ کے کاموں میں سے ایک ہے زیادہ توجہ سے سرانجام دیا جا سکے۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ان کے فرائض ادا کرنے کا ایک موقع دیتا ہے۔لیکن جب وہ کسی قدر سستی اور کوتاہی سے کام لینے لگ جاتے ہیں تو پھر وہ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ علاوہ دینی ضرورتوں کے دنیوی حالات بھی ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جو ان فرائض کے ادا کرنے کیلئے انہیں مجبور کر دیتے ہیں۔ایسے حالات بظاہر ابتلاء ہوتے ہیں لیکن حقیقت وہ ایک بہت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہو کر آئے تھے اور دنیا کا کوئی کونہ اور علاقہ ایسا نہیں تھا جس کی ہدایت اور راہنمائی آپ یا آپ کے متبعین کے ذمہ نہ تھی۔لیکن با ایں ہمہ ایک لمبے عرصہ تک مسلمان مکہ سے باہر نہ نکلے اور یوں معلوم ہوتا ہے گویا انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ اسلام کو پہلے مکہ میں پوری طرح قائم کر کے