خطبات محمود (جلد 12) — Page 370
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء پھر دوسری دنیا کو مخاطب کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کے خلاف تھی وہ کچھ اور ہی چاہتا تھا اس لئے اس نے کفار مکہ اور ان میں سے خصوصاً ان شریروں کو جو خدا تعالیٰ کی از لی لعنتوں کے نیچے تھے اُبھارا کہ مسلمانوں پر ملکہ کی رہائش کا قافیہ تنگ کر دیں۔مسلمانوں نے اسے ایک ابتلاء سمجھا اور واقعہ میں یہ ابتلاء تھا مسلمانوں نے اسے اپنے لئے بظاہر ایک مصیبت خیال کیا اور اس میں کیا شک ہے کہ واقعہ میں وہ مصیبت تھی اور انہوں نے پرنم آنکھوں اور مغموم دلوں کے ساتھ اس وَادِي غَيْرِ ذِي زَرْعٍ کو چھوڑا جہاں دو ہزار سال قبل ان کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو لا کر بسایا تھا۔وہ اس ورثہ کی محبت کو چھوڑنے کے لئے مجبور ہو گئے جو دو ہزار سال سے ابا عن جد ان کو ملتی آئی تھی۔مکہ والے خوش تھے انہوں نے سمجھا ہم نے اسلام کا نام مٹا دیا اور مسلمان غمگین تھے کہ وہ نور کے مرکز سے جُدا ہونے پر مجبور کئے جا رہے ہیں اور اس مقام سے نکالے جا رہے ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام نازل کرنے کیلئے چنا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا منشاء اور تھا وہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اسلام ایک وقت میں ہی مختلف ممالک میں پھیلے گا اور وہ تبلیغ کیلئے نئے راستے کھولنا چاہتا تھا۔مسلمانوں نے حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی اور خدا تعالیٰ نے انہیں ان جگہوں پر لا کر ڈال دیا جو اپنے اندر اسلام کو قبول کرنے کی مکہ سے زیادہ صلاحیت رکھتی تھیں۔حبشہ میں اگر چہ لوگ زیادہ تعداد میں تو داخلِ اسلام نہ ہوئے لیکن وہاں کے بادشاہ کو خدا تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی جس سے اسلام کی ایک ہیبت طاری ہوگئی اور وقار قائم ہو گیا اور مدینہ میں اگر چہ امراء نے اسلام قبول نہ کیا لیکن عوام کثرت سے مسلمان ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے اسے مدینہ ہی وہ مقام ہو ا جہاں سے اسلام کے لئے چاروں طرف تیراندازی ہوئی تھی اور اس طرح وہی ابتلاء اور رنج کی کیفیت خوشی کا باعث اور اسلام کی ترقی کا موجب ہوگئی۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں وہ اپنے اندر برکت رکھتے ہیں بشرطیکہ لوگ انہیں بابرکت ہونے کا موقع دیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود جماعت تبلیغ کی طرف اس قدر توجہ نہیں دے رہی جتنی دینی چاہئے۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ اپنی پوری طاقت سے تبلیغ کرو اور لوگوں تک احمدیت پہنچاؤ اور اس میں کچھ شک نہیں کچھ دوست ہیں جو اس طرف توجہ کرتے ہیں لیکن باقی رات دن اس سے غافل رہتے ہیں۔ہفتوں کے بعد ہفتے مہینوں کے بعد مہینے بلکہ سالوں کے بعد سال گزرتے جاتے ہیں لیکن ان کے ذریعہ کسی کو ہدایت نصیب