خطبات محمود (جلد 12) — Page 368
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ہے وہ جھوٹا ہے لیکن اس کا خط بعینہ ان خطوط کی تحریر سے ملتا تھا جو پکڑے گئے تھے۔چنانچہ ان خطوط میں خلیفہ کی بجائے خیلفہ لکھا تھا اور اس میں بھی اسی طرح تھا اور بھی تمام غلط الفاظ اسی طرح لکھے تھے جس طرح ان خطوط میں تھے اس لئے میں اس کے بھی اخراج کا اعلان کرتا ہوں۔باقیوں کے متعلق بھی تحقیقات ہو رہی ہے ان میں سے دو کے متعلق اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہو تو وہ پیش کرے۔ایک تو یہی منشی عبد الکریم اور دوسرا میاں عبداللہ جلد ساز ان دونوں کا ان سے تعلق یا کوئی اور بات اگر کسی نے دیکھی ہو تو وہ پیش کرے وگر نہ ان کو بری قرار دیا جائے گا اور وہ الزام کے نیچے نہیں ہوں گے۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ جھوٹی گواہی دینا سخت جرم ہے جس کے متعلق جھوٹی گواہی دی جائے وہ تو بے شک پکڑا جائے گا لیکن اسے تو دنیوی سزا ملے گی لیکن گواہی دینے والے کی سزا اُخروی اور بہت زیادہ خطر ناک ہوگی اور اس طرح اگر کوئی سچی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے متعلق قرآن کریم کا یہ ارشاد ہے کہ فَإِنَّه ايم قلبه 2 یعنی اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور وہ نیکی سے محروم رہ جاتا ہے اس لئے اگر گواہی کو چھپاؤ گے جیسا کہ بعض نے چھپائی ہے۔انہوں نے پہلے تو اطلاع دی لیکن عدالت میں انکار کر دیا اور اگر چہ ان پر ہم نے اُس وقت مقدمہ تو نہیں چلایا لیکن ان کا نام منافقوں میں ضرور لکھ لیا گیا ہے اور اگر اب بھی کسی نے چھپائی اور بعد میں اس کے کسی دوست نے جس سے وہ پہلے بات کر چکا ہو اس کا اظہار کر دیا تو اُس کو بھی ساتھ ہی شامل کر لیا جائے گا اس لئے جو کسی کو کسی مرد یا عورت کے متعلق کوئی بات ایسی معلوم ہو وہ رپورٹ کرے خصوصیت سے عبد اللہ جلد ساز اور منشی عبدالکریم کے متعلق۔لیکن یہ بھی یادر کھے کہ اگر کسی پر جھوٹا الزام لگائے گا تو خود گنہگار ہوگا۔(الفضل ۱۶۔اپریل ۱۹۳۰ء) ملاپ ۱۰۔اپریل المبسوط الشمس الدين السرخسى جلد ۹ صفحه ۱۰۵ مطبوعہ مصر ۱۳۲۴ھ بخاری کتاب المناقب باب المناقب وقول الله تعالى يايهالناس انا خلقنكم من ذكر وانثى الدخان: ۵۰ بخاری کتاب الاذان باب ما يُحْقَنُ بالاذان من الدماء الانفال: ۵۸ ك الانفال : ٢٦ البقرة : ۲۸۴