خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 322

خطبات محمود ۳۲۲ سال ۱۹۳۰ء بعض ایسے ہوتے ہیں جو اُٹھ تو سکتے ہیں مگر وہ اُٹھنے کا خیال نہیں کرتے۔اسی طرح بعض جماعتیں بیٹھی ہوئی ہیں جو اٹھنے کا خیال نہیں کرتیں حالانکہ اگر وہ خیال کریں تو اُٹھ سکتی ہیں۔وہ اس کی منتظر رہتی ہیں کہ کوئی مبلغ جائے اور تبلیغ کرے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ اتنے مبلغ کہاں سے آئیں۔انہیں خود مبلغ بننا چاہئے قادیان سے مبلغ تو کبھی مباحثہ یا ضلع کے جلسہ میں جا سکتے ہیں ور نہ عام تبلیغ ہر جگہ کے لوگوں کو خود کرنی چاہئے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مقامی مبلغوں کی با تیں عام طور پر لوگ زیادہ عمدگی سے سمجھتے ہیں۔سالانہ جلسے پر بعض لوگوں سے جو جلسہ گاہ سے باہر نکلے ہوتے ہیں پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیوں آگئے ہیں تو وہ یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے ساتھ آئے ہیں وہ تقریریں نہیں سمجھ سکتے ہم انہیں سمجھانے کے لئے باہر آئے ہیں۔پس جب وہ جلسہ کے دنوں میں زیادہ عمدگی سے سمجھا سکتے ہیں تو باقی دنوں میں کیوں نہیں سمجھا سکتے۔جس زبان سے وہ جلسہ کے دنوں میں سمجھاتے ہیں اُسی سے دوسرے اوقات میں بھی سمجھا سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر دوست اپنی اپنی جگہ تبلیغ کریں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ اپنے رنگ کا کلام انسان پر بہت اثر کرتا ہے۔ایک دوست نے سنایا۔ایک مقام پر ایک غیر احمدی مولوی بہت شرارت کر رہا تھا اُس نے بہت جوش پھیلا رکھا تھا اس سے مباحثہ کے لئے ایک احمدی مولوی صاحب گئے جنہوں نے ایک احمدی کے ہاتھ جو معمولی لکھا پڑھا تھا شرائط وغیرہ کا متعلقہ رقعہ بھیجا غیر احمدی مولوی نے سمجھا میں اسے اچھی طرح قابو کرلوں گا اس نے جھٹ قرآن منگوایا اور کہا بتاؤ تم کیوں احمدی ہوئے۔اُس نے کہا مولوی صاحب! مجھ سے آپ کیا کہتے ہیں ہمارے مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے بحث کر لیں۔وہ کہنے لگے تمہارے مولوی کو تو بعد میں دیکھا جائے گا پہلے تم بتاؤ کہ تم کیوں احمد کی ہوئے ہو؟ اور جھٹ قرآن کھول کر يعِيسَى إِنِّي مُتَوَقِّيْكَ وَرَافِعُ کی آیت نکال کر کہنے لگا پڑھو ر ا فعک کے کیا معنے لکھے ہیں احمدی نے کہا اُٹھانا لکھے ہیں۔وہ کہنے لگا پھر تم کس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتے ہو۔باقی لوگوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا دی کہ قرآن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہو گیا۔اس پر احمدی نے کہا مولوی صاحب! رَافِعُكَ کے معنے تو بے شک اُٹھانا لکھے ہیں لیکن منو فیک کی ”ف“ کے نیچے کیا ہے۔مولوی صاحب نے کہا