خطبات محمود (جلد 12) — Page 321
خطبات محمود ۳۲۱ سال ۱۹۳۰ء اپنے مقررہ کام کرنے کے بعد آسانی سے مل سکتا ہے یعنی جمعرات کی شام سے جمعہ تک بہت کامیابی ہوسکتی ہے بلکہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں اگر جمعہ بھی باہر ہی پڑھ لیا جائے کیونکہ یہ جہاد ہے اور ایسی حالت میں قادیان کے جمعہ سے تبلیغ کرتے ہوئے باہر جمعہ پڑھ لینا مقدم ہے۔اس وجہ سے اگر جمعہ وہاں ہی پڑھ لیا جائے تو حرج نہیں۔اس سے بھی اچھا اثر ہو سکتا ہے۔ایک جمعہ وہاں پڑھ لیا اگلے جمعہ کو انہیں ساتھ لے آئے تو اسی طرح یہ ضلع بہت جلد فتح ہو سکتا ہے اسی طرح سیالکوٹ کا ضلع ہے وہاں بھی بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔اس علاقہ میں سب سے کم مبلغ جاتے ہیں مگر سب سے زیادہ بیعت ہوتی ہے کیونکہ وہاں با ہمی رشتہ داروں سے ملنے جلنے سے خود بخودہی تبلیغ ہوتی رہتی ہے۔پھر وہاں اب یہ ڈر نہیں کہ احمدی ہوں گے تو کیا ہو گا بلکہ بعض جگہ یہ خدشہ ہے کہ احمدی نہ ہوں گے تو کیا ہو گا اس لئے اگر سیالکوٹ کے دیہات کے لوگ اپنے ارد گر د تبلیغ کریں اور علاقہ پر زور دیں تو بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے۔تیسر ا ضلع گجرات ہے۔ایک زمانہ میں سب سے زیادہ احمدی اس ضلع میں تھے مگر اب یہ تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے۔بعض پرانے احمدی فوت ہو گئے اور ان کی اولادیں احمد کی نہ رہیں یا ان کو احمدیت سے زیادہ اُنس اور دلچسپی نہ رہی اور آئندہ تبلیغ کی طرف توجہ نہ کی گئی اس لئے یہ ضلع پیچھے رہ گیا۔اگر اب بھی وہاں کے احمد کی اپنا ایک نظام قائم کر کے پھر کام شروع کر دیں تو بہت کامیابی ہو سکتی ہے۔خدا کے فضل سے وہاں بڑے اثر اور رسوخ والے لوگ ہیں مگر ضرورت ہے کہ ان میں بیداری پیدا ہو۔ایک تبلیغی انجمن بنائی جائے جو ہمیشہ جلسے کرتی رہے۔ایک مہینہ ایک تحصیل میں جلسہ ہو اور دوسرے مہینہ میں دوسری میں۔ہر گاؤں کے سب احمدیوں کا ایسے جلسوں میں شامل ہونا تو مشکل ہے اس لئے صرف نمائندے شامل ہوں۔اور اگر سال میں ایسے ۱۲ جلسے بھی کر لیں تو یقینا ان کی مُردنی دور ہو کر ان میں بیداری پیدا ہو جائے اور وہ لوگ جو پہلے احمدی تھے اور اب نہیں رہے یا جن کے والدین احمدی تھے مگر وہ کسی وجہ سے شامل نہیں رہے وہ دوبارہ شامل ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے ضلع گجرات اُس پہلے مقام کو دوبارہ حاصل کر سکے۔لیکن اگر شستی اور غفلت کی یہی حالت رہی تو دوسرے اضلاع میں جو بیداری پیدا ہو رہی ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے مجھے اس کا وہاں ٹکنا بھی محال نظر آتا ہے جہاں اب ہے۔بعض لوگ لیٹے رہتے ہیں اور کہتے ہیں اُٹھا نہیں جاتا۔بے شک بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بوجہ بیماری اُٹھ نہیں سکتے لیکن