خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 323

خطبات محمود ۳۲۳ سال ۱۹۳۰ء زیر۔اُس نے کہا جب زیر نیچے ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام او پر کس طرح جا سکتے ہیں وہ تو نیچے ہی رہیں گے۔اس پر مولوی صاحب نے بہت شور مچایا کہ اس بات کا یہاں کیا تعلق ہے۔مگر لوگوں نے کہا نہیں مولوی صاحب! اس کا جواب دیں بات بڑی پکی ہے۔تو جیسی دلیل اُس مولوی نے دی تھی اُس کا تو ڑ احمدی نے بھی سوچ لیا۔تو اپنے جیسے آدمی سے انسان زیادہ سمجھ سکتا ہے۔ہر جگہ مولویوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر ہو تو ہر فرد کو مولوی بننا چاہئے۔اگر یہ بات ساری جماعت میں پیدا ہو جائے تو پانچ سات سال میں ہی دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے کیونکہ لوگوں میں بے چینی بہت پیدا ہو چکی ہے دنیا کب تک آنے والے کا انتظار کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ: ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولا د مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اُترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی آسمان سے نہ اُترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت ٹو مید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سے۔اس وقت بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں نے گھبرا کر کہہ دیا ہے کہ کوئی نہیں آئے گا۔آنے والے کے متعلق سب روایات غلط ہیں لیکن سب لوگ ایسے نہیں ہوتے بلکہ ایسے بھی ہیں جن کے دل میں محمد رسول اللہ ہے کے ارشادات کی عزت ہے وہ سمجھتے ہیں کہ مولویوں نے ہمیں دھوکا اور فریب میں رکھا اور خواہ مخواہ اتنا عرصہ انتظار میں گزارا۔ان کے دل بے چین ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دھوبی کے بیل کی طرح کوئی انہیں جماعت میں داخل کر دے۔کہتے ہیں ایک دھوبی