خطبات محمود (جلد 12) — Page 320
خطبات محمود ۳۲۰ بھی تو پھر ان کو دیکھنے والا کیونکر چپ رہ سکتا ہے۔پس لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ احمدیوں کی کیا حالت ہے اور وہ احمدی جن میں نمایاں تغیر اور جوش ہوتا ہے ان کی آواز لوگ فورا سنتے ہیں اور پھر قبول بھی کرتے ہیں۔ایک جگہ خاموشی ہوتی ہے تبلیغ کے متعلق کوئی کام نہیں ہو رہا ہوتا لیکن ایک ایسا شخص دوسری جگہ سے وہاں آتا ہے جس میں اخلاص، جوش اور تقویٰ ہوتا ہے یا انہی میں سے کسی میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے تو لوگ فورا با تیں بھی سننے لگ جاتے ہیں اور بعض مان بھی لیتے ہیں اور مخالفت بھی شروع ہو جاتی ہے مگر اس سے پہلے وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔نئے آدمی کے آنے یا کسی مُردہ میں زندگی پیدا ہو جانے سے ترقی شروع ہو جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مردہ نہیں بلکہ ہم مردہ ہیں لوگ ماننے سے جی نہیں چراتے بلکہ ہم منوانے کی کوشش نہیں کرتے۔دنیا میں کون ایسا بے وقوف ہے جو ا چھی چیز دیکھ کر انکار کرے۔پس اگر کوئی احمدیت کو برا سمجھتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ اس پر اچھائی ہم نے ظاہر نہیں کی۔ایک زمانہ ابتدائی ہوتا ہے اُس وقت لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم کیوں اپنی پہلی حالت کو ترک کریں لیکن جب لاکھوں انسان مان جائیں، جماعت کا رُعب اور وقار قائم ہو جائے، اُس وقت ما نا بہت آسان ہو جاتا ہے اور اس وقت احمدیت اسی حالت میں ہے۔پس جہاں مجھے یہ معلوم ہوا کہ جماعت میں ایسے لوگ موجود ہین جو خلیفہ کی ہر آواز پر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہاں یہ بھی پتہ لگ گیا کہ جماعت کی ترقی ہماری اپنی غفلت اور سستی کی وجہ سے رُکی ہوئی ہے۔اگر قادیان کے رہنے والے ہی پورے اخلاص کا نمونہ دکھا ئیں تو ضلع گورداسپور میں احمدیت کی پوری پوری کامیابی نہایت آسان امر ہے۔اس ضلع کے جتنے بڑے بڑے زمیندار ہیں ان میں احمدیت داخل ہو چکی ہے اور زمیندار ہی ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ان کے ماننے کے بعد دوسروں کا منوانا آسان ہوتا ہے۔پھر دوسری اقوام کے لوگ بھی احمدی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے تحصیل بٹالہ اور تحصیل گورداسپور میں احمدیوں کی کثرت ہے تحصیل شکر گڑھ میں بھی احمدیت آہستہ آہستہ پھیل رہی ہے باقی رہی تحصیل پٹھان کوٹ وہ زیادہ تر ہندوؤں کا علاقہ ہے یہ تینوں تحصیلیں جن میں مسلمانوں کی کثرت ہے ان میں احمدیت خوب پھیل چکی ہے۔اگر قادیان کے دوست اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے تبلیغ میں لگ جائیں تو اس وقت میں ہی جو انہیں