خطبات محمود (جلد 12) — Page 310
خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۰ء ابتلاء مومن کی ترقی کا موجب ہوتے ہیں فرموده ۷۔مارچ ۱۹۳۰ ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ انسان کو متواتر جگاتا رہتا ہے کیونکہ انسان ان تعلقات کی وجہ سے جو اس کے جسم اور جسمانیات سے وابستہ میں غفلت کی طرف مائل رہتا ہے۔اگر ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کا بیشتر حصہ ہمیں مجبوراً ایسے کاموں میں صرف کرنا پڑتا ہے جن کا براہ راست دین سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک رنگ میں غفلت کا موجب ہوتے ہیں۔نیند پر ہمارا بس نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے انسان کے لئے ضروری قرار دیا ہے اور ایسا ضروری قرار دیا ہے کہ ہم گلی طور پر اس سے مستغنی نہیں ہو سکتے تھوڑا بہت بہر حال ہر ایک کو سونا پڑتا ہے۔اگر اس سونے کے وقت کو نکال دیا جائے تو ایک معقول حصہ زندگی کا کم ہو جاتا ہے۔بچے عام طور پر آٹھ گھنٹے سوتے ہیں، نو جوانوں کو طبیب اور ڈاکٹر لوگ چھ سات گھنٹے سونے کا مشورہ دیتے ہیں غافل نوجوان عام طور پر تو دس گھنٹہ سوتے ہیں بلکہ بعض تو گیا ہ بارہ گھنٹے بھی سوتے ہیں۔دنیا میں ہوشیار لوگ کم ہیں اور غافل بہت زیادہ اس لئے اگر اوسط لگائی جائے تو ہر انسان کیلئے نیند روزانہ سات آٹھ گھنٹے سے کم نہ ہوگی اور اس اوسط کے لحاظ سے انسان کی عمر کا تیسرا حصہ گویا نیند میں نکل جاتا ہے۔اوسط عمر ہمارے ملک میں پینتیس چالیس سال ہے۔یہ اگر چالیس سال بھی فرض کر لیں اور اس میں تیسرا حصہ نیند کا نکال دیا جائے تو باقی چھبیس سال رہتے ہیں اس میں سے اگر بچپن کا زمانہ نکال دیں اور بچپن کا زمانہ اگر پندرہ برس بھی فرض کر لیں تیسر ا حصہ جو پہلے نکل چکا