خطبات محمود (جلد 12) — Page 311
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ہے چونکہ اس میں بھی بچپن شامل ہے تو کم از کم دس سال اور کم کرنے پڑیں گے اور اس صورت میں صرف سولہ باقی رہ جائیں گے۔پھر اگر بیماریوں وغیرہ کے دن نکال دیئے جائیں اور کم از کم ایک سال ہی ان کے لئے رکھا جائے تو باقی ۱۵ سال بچیں گے۔ان میں سے اگر کھانے پینے نہانے، کپڑے بدلنے پاخانہ پیشاب وغیرہ کے اوقات نکال دیں جو میرے نزدیک دو گھنٹہ روزانہ سے کم نہیں ہوتے تو اس حساب سے گویا بارہواں حصہ اور کم ہو گیا جو سو ا سال ہوتا ہے اور اس طرح پونے چودہ سال رہ جاتے ہیں یہ وہ وقت ہے جو جاگنے کا ہے۔اس میں ہی دنیوی ضرورتیں پورا کرنے کا وقت بھی ہے دوستوں کی ملاقات کا وقت بھی سفر کا بھی، زمیندار کو اپنا زمینداری کا کام کرنا ہوتا ہے اور نوکر کو نوکری کا اور اگر یہ کام روزانہ چھ گھنٹے بھی فرض کر لیں تو ۱/۴ حصہ اور نکل جاتا ہے۔بچپن کا پندرہ برس کا زمانہ نکال کر باقی ۲۵ سال کا ۱۱۴ حصہ سوا چھ سال ہے۔اس میں سے گھر کے کام کاج سودا سلف کی خرید و فروخت، بچوں کی نگرانی ، بیوی بچوں سے ملنا جلنا ان کے حقوق ادا کرنا وغیرہ کاموں کے اوقات نکال دیں تو سو اچھ سال میں سے بھی قریباً نصف عرصہ باقی رہ جاتا ہے اور اس طرح گویا قریباً چار سال کا عرصہ ہے جسے انسان خدا تعالیٰ کی عبادت میں خرچ کر سکتا ہے۔کرتا ہے کا سوال نہیں بلکہ یہ وہ عرصہ ہے جو اگر انسان چاہے تو خرچ کر سکتا ہے لیکن اگر دیکھا جائے کہ واقعی کتنا خرچ کرتا ہے تو اس کی مقدار بہت قلیل نظر آئے گی۔جو لوگ نماز وغیرہ کے پابند اور دین کی طرف رغبت رکھنے والے ہوتے ہیں وہ بھی زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ دینی کام میں صرف کرتے ہیں یعنی اٹھارہواں حصہ۔اور اگر بچپن کی عمر کو نکال دیا جائے تو بقیہ عمر کے لحاظ سے اس عرصہ کے دو سوا دو سال بنتے ہیں گویا دنیا کے نیک لوگ اپنی عمر کا بیسواں حصہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اور باقی انہیں حصے اپنی جسمانی ضروریات ، روزگار سیر و سیاحت اور بیوی بچوں کے لئے خرچ کرتے ہیں۔سو جہاں ۱/۱۹ حصہ غفلت اور صرف ایک حصہ ہوشیاری کا سامان ہو اور وہ بھی صرف نیک لوگوں کے لئے غافل لوگوں کی بیداری کا زمانہ تو ایک دو یوم یا ہفتہ دو ہفتہ سے زیادہ نہیں نکلے گا۔ہفتوں پر ہفتے اور مہینوں پر مہینے گزرتے جائیں گے اور انہیں خدا تعالیٰ کی طرف کبھی توجہ نہیں ہو گی۔وہ گذرتے ہوئے کسی کو لے لنگڑے یا اپاہج کو دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں خدا کی قدرت لیکن اگلے ہی قدم پر خدا تعالیٰ کی قدرت انہیں بھول جاتی ہے۔ان کے گھر میں بیماری ہو تو کہتے ہیں خدا یا رحم کر۔لیکن