خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 294

خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۰ء رنگ میں یہ مل سکتی ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ناجائز قرار دیا ہے اور سیاسی لحاظ سے بھی یہ سخت نقصان رساں ہے اس لئے بہترین طریق یہ ہے کہ ڈومینین سٹیٹس کے حصول کی کوشش کی جائے اور دنیا کی رو بھی اسی طرف ہے۔پہلے ہی کچھ حکومتوں نے مل کر ایک لیگ بنا نا ہے جو لیگ آف نیشنز کہلاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طریق کے بغیر امن قائم بھنی نہیں ہو سکتا۔اگر تمام سلطنتیں اپنی اپنی جگہ آزاد ہو کر بھی ایک نقطہ پر جمع ہوں تو ایک دوسرے کے حق کو دبا نہیں سکتیں۔اور انگریزی حکومت اس لحاظ سے بے نظیر ہے اس میں پہلے ہی کئی ملک ہیں جو آزاد ہو کر پھر بھی مل کر کام کرتے ہیں جیسے کینیڈا، ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا یہ اپنی اپنی جگہ آزاد ہیں مگر پھر بھی ایک دوسرے سے مل کر کام کرتے ہیں اور یہ بہترین طریق ہے جس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔دنیا میں جب بھی امن قائم ہوگا اس طرح ہوگا کہ سب حکومتیں آزاد ہونے کے باوجود ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں تا ایک ملک دوسرے ملک پر ظلم نہ کر سکے اور اس طریق کا ایک چھوٹا سا نمونه حکومت انگریزی میں ہے۔اگر ہندوستان بھی اس نظام میں شامل ہو جائے تو یہ زیادہ وسیع ہو جائے گا۔ہو۔یہ پس ہندوستان کے لئے یہی ذریعہ بہتر ہے کہ پہلے ہی اس طرف آ جائے بجائے اس کے کہ دھکے اور ٹھوکریں کھا کر آئے۔تمام دنیا اب اس طرف آ رہی ہے کہ سب اقوام میں اشتراک طریق ہندوستان کے لئے نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں فساد کا بھی خطرہ نہیں اور دنیا کے امن کے لئے بھی یہی مفید ہے کہ ہندوستان آزاد بھی ہو اور انگلستان کے مساوی حیثیت بھی رکھتا ہو مگر اس کے بادشاہ کو اپنا بادشاہ بھی تسلیم کرے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر رحم کرے اور انہیں توفیق دے کہ وہ اپنے حقوق کی نگہداشت کریں اور ایسا طریق اختیار نہ کریں کہ مٹ جائیں۔موجودہ رو ہندوستان میں سپین کا نقشہ قائم کرنے والی ہے اور اس کے کامیاب ہونے پر مسلمانوں کی وہی حالت ہوگی جو ہندو ریاستوں میں ہے۔اور اس سے کوئی فائدہ نہ ہو گا سوائے اس کے کہ جو مسلمان مذہب سے دور ہوں وہ ہندو بن جائیں گے اور جو مذہب کے دلدادہ ہوں گے وہ تباہ کر دئیے جائیں گے۔(الفضل ۲۵ فروری ۱۹۳۰ء )