خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 295

خطبات محمود ۲۹۵ ۳۹ سال ۱۹۳۰ء سورۃ فاتحہ کی ایک آیت کے نکات فرموده ۲۱ فروری ۱۹۳۰ء ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: یوں تو سورۃ فاتحہ خطبہ جمعہ سے پہلے برکت اور دعا کے طور پر میں ہمیشہ ہی پڑھتا ہوں لیکن کبھی کبھی اس سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ خطبہ کا مضمون اس سے تعلق رکھتا ہے اور آج اسی رنگ میں میں نے اس کی تلاوت کی ہے۔آج میں اس کی آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دل تو چاہتا تھا کہ اس کے متعلق زیادہ تفصیل سے بیان کروں مگر جلسہ کے بعد مجھے کھانسی جو شروع ہوئی ہے کہ پھر آرام نہیں ہوا۔ایک دن اگر رک جاتی ہے تو دوسرے دن پھر شروع ہو جاتی ہے۔خصوصاً روزہ کی حالت میں گلے میں خراش زیادہ معلوم ہوتی ہے۔رات کو آرام ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گو میں سمجھتا ہوں کہ بالکل ہی آرام ہو گیا لیکن دن میں گلے میں شاید خشکی کے باعث پھر IRRITATION پیدا ہو جاتی ہے اس لئے میں تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا مگر امید کرتا ہوں کہ میرے الفاظ میں جو کمی رہ جائے گی احباب کے ذہن اسے خود پورا کرلیں گے۔ہم روزانہ دعا کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔اور ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، روزانہ چالیس پچاس دفعہ یہ دعا کرتے ہیں اور اس دعا میں ہم کئی باتوں کا اقرار کرتے ہیں جو اپنی ذات میں نہایت اہم ہیں مگر تعجب ہے کہ اعمال میں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔پہلی چیز جس کا اقرار اس میں کرتے ہیں یہ ہے کہ