خطبات محمود (جلد 12) — Page 293
خطبات محمود ۲۹۳ راجے مہاراجے تھے جنہوں نے کچھ نہ کچھ مقابلہ کیا۔اب جبکہ کوئی بھی حکمران نہ ہو گا اُس وقت کیا حالت ہوگی۔یہ جھگڑا دنوں میں نہیں بلکہ سالوں میں طے ہونے والا ہے۔اس لئے جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو اس وقت تک کون حکومت کرے گا لہذا حکومت کی تشکیل پہلے ہو جانا ضروری ہے اور اگر نیت نیک ہو اور مسلمانوں کو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو پیچھے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔بعض لوگ نادانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ابھی کچھ ہے ہی نہیں تو دیں کیا ؟ لیکن ہم کب کہتے ہیں کہ عملاً کچھ دے دو ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ ہاتھ میں آنے کے بعد کیا دو گے۔تصفیہ بہر حال ضروری ہے تا معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کو ایسی پوزیشن حاصل نہیں ہوگی جس سے اسلام ہی ہندوستان سے مٹ جائے۔یہ سوال خلاف عقل ہے اور جب تک پہلے حقوق طے نہ کر لئے جائیں مسلمانوں کو کبھی مطمئن نہ ہونا چاہئے۔مطمئن نہر ور پورٹ کی تنسیخ بھی کانگریس کی طرف سے سخت دھوکا ہے اور جو مسلمان اس سے گئے ہیں ان کی عقل پر افسوس ہے۔پہلے تو ڈومینین سٹیٹس (Dominion Status) کا مطالبہ تھا اور اس صورت میں کچھ نہ کچھ تسلی اس طرح ہو سکتی تھی اگر ہندوؤں نے ہمارے حقوق ہمیں نہ دیئے تو انگریزوں سے مدد لی جاسکتی ہے اور وہ دلا دیں گے لیکن جب انگریزوں کو نکال ہی دیا جائے گا تو پھر مسلمان کا پُرسانِ حال کون ہوگا۔وہ ہندوؤں کے رحم پر ہوں گے اگر چاہیں تو کچھ دے دیں وگرنہ ان کی مرضی۔پس میں کہوں گا جو مسلمان کانگریس کی رو میں بہے چلے جا رہے ہیں 13 اسلامی نقطۂ نگاہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔اگر کہا جائے کہ ہم فرقہ وارانہ جذبات سے نہیں بلکہ نیشنلٹی کے خیال سے کانگریس کے ساتھ ملے ہیں اور یہ ایک نیشنل سوال ہے تو میں کہوں گا اگر بعد میں جوتے کھا کر ہندو بننا ہے تو پہلے ہی اپنی مرضی سے کیوں نہ بن جاؤ۔اُس وقت تو بننا مجبوری کے ماتحت سمجھا جائے گا مجبور ہو کر کوئی کام کرنے والے کو کوئی کریڈٹ نہیں ملا کرتا۔پس اگر قومی سپرٹ کے ماتحت مذہب کو قربان ہی کرنا ہے تو پہلے ہی کر دو۔غرض اس وقت اگر اپنی پوزیشن کو محفوظ نہ کر لیا گیا تو مسلمانوں کی ہندوستان میں وہی حالت ہوگی جو سپین میں ہوئی۔سپین کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں سے زیادہ تازہ دم تھے ان کی تعداد بھی عیسائیوں سے کم نہ تھی مگر جب وہ تباہ کر دیئے گئے تو یہاں کے مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی۔پس یہ ر و اسلامی حقوق کے خلاف ہے اور مذہبی نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو جس