خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 26

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء مذہب کے مقابلہ میں سیاسی امور کچھ حقیقت نہیں رکھتے فرموده یکم فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیر د چیچی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گو خطبہ کی غرض تو یہی ہوا کرتی ہے کہ جس مجلس کے سامنے خطبہ پڑھا جائے ان لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق یا ان کی اصلاح کے لئے پڑھا جائے۔رسول کریم ہے حسب موقع اور مناسب حال امور کے متعلق خطبہ پڑھا کرتے تھے۔اگر جنگ کرنے کی ضرورت پیش آتی تو جنگ مشتمل امور پر خطبہ پڑھتے۔اگر صلح کا موقع ہوتا تو صلح سے تعلق رکھنے والی باتوں کے متعلق خطبہ پڑھتے۔اگر لوگوں کی اصلاح کی ضرورت ہوتی تو اصلاح پر مشتمل امور پر خطبہ ارشاد فرماتے۔اگر کوئی اخلاقی سوال اہمیت رکھتا تو اس کے متعلق خطبہ پڑھتے۔غرض جس طرح کی ضرورت پیش آتی اس کے متعلق خطبہ ہوتا۔پھر خطبہ سننے والوں کے مذاق ان کی ضرورتوں اور ان کے علم کے مطابق ہوا کرتا تھا۔ان حالات کے ماتحت آج مجھے خطبہ جمعہ کا مضمون سادہ ہی رکھنا چاہئے تھا کیونکہ آج میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں اور دیہاتی آبادی میں خطبہ پڑھنے لگا ہوں لیکن سلسلہ اور جماعت کی ضرورتیں چونکہ بحیثیت مجموعی اس قدر وزن رکھتی ہیں کہ کسی خاص جگہ کی ضرورتوں کو ان پر مقدم نہیں کیا جا سکتا اور چونکہ جماعت کے امام کے خطبہ کا تعلق صرف انہی لوگوں سے نہیں ہوتا جن کے سامنے کھڑا ہو کر وہ خطبہ پڑھتا ہے بلکہ اس کا خطبہ اخباروں کے ذریعہ ساری جماعت تک پہنچتا ہے اور چونکہ امام کا فرض ہے کہ ساری جماعت کی ضرورتوں کو مد نظر رکھے اس لئے اور اس لئے