خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 25

خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۲۹ء کھڑا کرے۔ہاں جب تک اصل حکومت قائم نہ ہو جائے اس وقت تک قائم شدہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو ہم باغی ہی کہیں گے جیسے امیر معاویہ جب تک حضرت علی سے لڑتے رہے باغی تھے لیکن جب اُن کی حکومت قائم ہو گئی اور انہوں نے ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تو رضی اللہ عنہ کے مصداق بن گئے۔خدا تعالیٰ نے انہیں ایک آزاد ملک عطا کر دیا اور انہیں خدمت کے ایسے موقعے مل گئے کہ خدا تعالیٰ نے بغاوت کا الزام اُن سے دھو دیا۔آج ہم انہیں رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ سوال کرے کہ معاویہ حضرت علی کے مقابلہ میں کون تھے۔تو آج بھی ہم یہی کہیں گے کہ باغی۔مگر جب یہ سوال نہ ہوگا تو ہم انہیں حضرت امیر معاویہ کہیں گے پس جب تک افغانستان میں کوئی حکومت قائم نہ ہو جو امان اللہ کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا باغی کہلائے گا۔ہمارے پاس اگر فوجیں ہوتیں تو ہم طاقت کے ذریعہ فیصلہ کرتے کہ امان اللہ خاں اچھا ہے یا کوئی اور۔لیکن جب یہ نہیں تو ہمارے لئے صحیح راستہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں جو مفید ہوا سے کھڑا کرے اس سے زیادہ کچھ کرنے کی طاقت ہندوستانی مسلمانوں میں نہیں۔یہ راہ ہے جس پر چل کر میں سمجھتا ہوں مسلمان دوسری اقوام پر اپنا رُعب اور ان کے دلوں میں اپنا ادب و احترام پیدا کر سکتے ہیں۔اگر کوئی کمزور شخص کھڑا ہو جاتا ہے اور زبر دست سے کہتا ہے میں تم سے مقابلہ کی طاقت تو نہیں رکھتا لیکن چونکہ میں تمہاری اِس حرکت کو نا پسند کرتا ہوں تم جو چا ہوکر لو میں جان دینے کے لئے تیار ہوں تو اُس کی عزت کی جائے گی اور مخالف اس کے مقابلہ کے اس جذبہ سے مرعوب ہوگا۔لیکن اگر کسی کو دوسرے نے زمین پر گرایا ہوا ہو اور اُس کی چھاتی پر بیٹھا ہوا اسے مارتا جاتا ہو مگر وہ نیچے سے یہ کہتا چلا جائے کہ میں ابھی تمہاری گردن تو ڑ دوں گا تو اس کی بات کو کوئی پسند نہ کرے گا۔دشمن یا تو شہادت پانے والے کی ہمت سے مرعوب ہوتا ہے یا غلبہ سے کمزوری کے ساتھ زور کا دعویٰ کرنا کچھ اثر نہیں رکھتا۔پس اپنے احساسات کو ضائع مت کرو اور انہیں دوسروں کے سامنے ذلیل نہ کرو۔میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں موجودہ حالت میں یہی ٹھیک راہ عمل ہے کہ مسلمان صرف اپنی رائے کا اظہار کر دیں اور پھر خدا کے سامنے جھک جائیں اور کہیں اے خدا! وہی ( الفضل تیکم فروری ۱۹۲۹ء ) ہو جو تیری مرضی۔بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور والعمل به