خطبات محمود (جلد 12) — Page 27
خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۲۹ء بھی کہ ہماری جماعت کے لوگ سیاسی، ملکی، دینی مذہبی باتیں سن سن کر اتنے واقف ہو گئے ہیں کہ ان میں سے ان پڑھ بھی ایسی باتوں کو اس آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسرے پڑھے لکھے بھی نہیں سمجھ سکتے۔آج میں ایک ایسے امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا ہوں جو ساری جماعت سے بحیثیت مجموعی تعلق رکھتا ہے صرف یہاں کے لوگوں کی ضرورتوں کے ساتھ خصوصیت سے اسے تعلق نہیں۔میں نے پچھلے کئی سال سے مسلمانوں کے اندر اختلافات، فسادات، تفرقے اور جھگڑ۔دیکھ کر کوشش شروع کی ہوئی تھی اور کی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں اتفاق ہو جائے وہ ایک دوسرے کے متعلق ایسے طریق اختیار نہ کریں جو خواہ مخواہ لڑائی مول لینے کے مصداق ہوں اس کے لئے میں نے متواتر مسلمانوں کو سمجھایا کہ باوجود عقائد کا اختلاف رکھنے کے ان کی آپس میں صلح ہو سکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں ایک گھر میں کئی مذاق کے لوگ رہتے ہیں کھانے پینے میں ہی دیکھا جاتا ہے اگر ایک چنے کی دال نہیں کھاتا تو دوسرا مسور کی دال نہیں کھاتا اور تیسرا ماش کی دال نہیں کھا تا مگر وہ ایک گھر میں گزارہ کرتے ہی ہیں۔جس دن مسور کی دال پکے اس دن مسور کی دال نہ کھانے والا خاموش ہو جاتا ہے اور کسی اور چیز سے کھانا کھا لیتا ہے۔جس دن چنے کی پکے اس دن چنے کی دال نہ کھانے والا چپ ہو جاتا ہے اس وجہ سے لڑائی جھگڑا شروع نہیں کر دیا جاتا کہ چنے کی دال کیوں کی ہے۔تو سب لوگ جانتے ہیں کہ مذاق مختلف ہوتے ہیں جب یہ حالت ہے تو یہ بھی ہو گا کہ کئی باتیں کئی لوگوں کے مذاق کے خلاف ہونگی۔اگر کوئی یہ کہے جو میں کہوں وہی دوسرے کہیں اور جو اس کے خلاف کہے اس پر طعن و تشنیع کیا جائے اس کی تحقیر و تذلیل کی جائے تو ہر ایک گھر کا امن بالکل برباد ہو جائے۔کھانے کے متعلق تو مذاق الگ الگ ہوتے ہی ہیں شکلیں بھی سب کی مختلف ہوتی ہیں۔بیٹے کی باپ سے شکل نہیں ملتی اور بیٹی کی ماں سے نہیں ملتی اربوں ارب انسان دنیا میں آباد ہیں مگر کوئی دو انسان ہو بہو ایک شکل کے نہیں مل سکتے ضرور کچھ نہ کچھ ان میں فرق ہو گا۔پس ہر قسم کے اختلاف موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے ہی صلح و اتحاد رکھنا در حقیقت اصل اخلاق ہیں اسی طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کی حالت اس درجہ گر گئی ہے کہ باوجود یہ دیکھتے ہوئے کہ دوسری قومیں انہیں تباہ کر رہی ہیں اور روز بروز مسلمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں انہیں کچھ خیال نہیں۔ترقی کی کوئی شاخ بھی ایسی نہیں جس میں