خطبات محمود (جلد 12) — Page 24
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ہو نگے کر لیں گے۔ابھی سے دھمکیاں دینا کچھ کام نہیں دے سکتا اور حقائق کا انکار کہ یہ سب کچھ یورپ کا پروپیگنڈہ ہے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے کہ ہم دل میں شرمندہ ہوں کہ ہم نے جھوٹ بولا۔جب پہلے پہل بغاوت کی خبریں آئیں تو کہا گیا کچھ بھی نہیں، باغیوں کی کچھ ہستی ہی نہیں وہ چند گیرے ہیں۔نتیجہ کیا ہوا یہ کہ ایک بادشاہ حکومت سے دستبردار ہو کر دار الحکومت سے چلا گیا دوسرا بھائی اس کی جگہ بادشاہ ہوا مگر وہ بھی جانے پر مجبور ہوا اور بچہ سقہ قابض ہو گیا۔معلوم نہیں وہ سقہ کا بچہ ہے یا جیسا کہ کہا جاتا ہے کسی بڑے فوجی افسر کا لڑکا ہے اس نے کسی موقع پر مشک اُٹھائی تھی اس وجہ سے امیر حبیب اللہ خاں پیار سے اس کو بچہ سقہ کہا کرتے تھے۔پس حقائق کو چھپانے اور دھمکیاں دینے سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ دنیا ہم کو جھوٹا سمجھے کہ یہ کہتے تھے ہم یہ کریں گئے وہ کریں گئے، مگر کیا کر دیا کچھ بھی نہیں اور ہم دلوں میں محسوس کریں کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔یہ یقینی بات ہے کہ خدانخواستہ اگر کوئی غیر ملکی حکومت دخل دے بھی دے خواہ وہ انگریز ہی ہوں تو خواہ ہم اسے کتنا ہی نا پسند کریں لیکن یہ بالکل غلط ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کچھ کر سکیں گے۔انہوں نے نہ کبھی پہلے کچھ کیا نہ اب کریں گے۔جب خدا تعالیٰ کسی قوم کے ہاتھوں سے تلوار چھین لیتا ہے تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اب صبر کرو جب تلوار دیں گے اُس وقت جو مناسب ہو کر لینا۔اور تلوار دینے کے سامان خدا تعالیٰ خود پیدا کر دیا کرتا ہے مگر وہ سامان ابھی نظر نہیں آتے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے سامان پیدا ہوتے ہیں تو اُس وقت تلوار کا استعمال | جائز ہوتا ہے جیسے رسول کریم اللہ کے وقت ہوا۔کفار نے مسلمانوں کو ہجرت سے جبرا روکا۔اُس وقت مسلمانوں کے لئے تلوار اٹھانا جائز تھا، خواہ وہ مکہ میں رہ کر ہی اُٹھاتے۔پس میرے نزدیک اس وقت مسلمانوں کو ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان بالاتفاق یہ اعلان کر دیں کہ ہم غیر ملکی دست اندازی کو نا پسند کرتے ہیں اور ہمارے احساسات کا اگر کچھ خیال رکھا جا سکتا ہے تو کسی کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے نہ انگریزوں کو دخل دینا چاہئے نہ روسیوں کو اور نہ کسی اور کو اور اس کے بعد ہمارا یہ فرض ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ اے خدا!! اسلام کے لئے جو بہتر ہے وہی ہو۔ہمیں کیا پتہ ہے کہ اس ملک کے لئے کونسا بادشاہ مفید ہو گا۔یہ غیب کی بات ہے اسے اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے اور یہ دعا کرنی چاہئے کہ اس ملک کے لئے جو مفید اور بہتر ہوا سے